شنزو آبے کا قتل قابل مذمت اور ’‘بزدلانہ‘‘ کارروائی ہے: سعودی عرب

آنجہانی کا سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ کردارمسلمہ رہا اور وہ عرب دنیا کے سچے دوست تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی حکومت اور وزارت خارجہ نے جاپان کے سابق وزیر وزیر اعظم شنزو آبے کے قتل کی مذمت کی ہے اور ان کے خاندان کے کے ساتھ تعزیت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، سابق وزیر اعظم کے سعودی دوست کے طور پر کردار کو تسلیم کرتا ہے اور یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی قائدانہ کردار ادا کیا ۔

سعودی خبر رساں ادارے ’’ایس پی اے‘‘ کے مطابق سعودی حکومت نے بھی جاپان کے اس رہنما کے قتل کی مذ مت کرتے ہوئے اس واقعے کو ’’بزدلانہ فعل‘‘ قرار دیا ہے۔ اس موقع پر سعودی مملکت جاپان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔

دریں اثنا شنزو آبے کو دنیا کے مختلف رہنماوں نے خراج تحسین پیش کیا ہے اور ان کے سر یہ سہرا رکھا ہے کہ انہوں نے جاپانی معیشت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ وہ دوسری بڑی جمہوریتوں کے بھی ایک قریبی دوست رہے۔

خیال رہے جمعہ کے روز 67 سالہ شنزو ایبے کو جاپان کے شہر 'نارا' میں محض دس فٹ کے فاصلے سے گولی مار کر اس وقت کر قتل دیا گیا جب وہ اپنی انتخابی مہم میں موجود تھے۔ جاپان میں اسی ہفتے کے اواخر میں انتخابات متوقع ہیں۔

شنزو آبے لمبے دورانیے کے لیے جاپان میں بر سر اقتدار رہے۔ وہ اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بھی ملک میں اپنے اثر ورسوخ کو بحال رکھا تھا۔ جاپان میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ کہ ایک بڑے رہنما کو اس طرح گولی مار دی گئی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد منتخب ہونے والے وہ جاپان کے سب سے کم عمر وزیر اعظم تھے جب شنزو آبے نے پہلی بار عہدہ سنبھالا۔

بطور وزیراعظم شنزو آبے اپنی خارجہ پالیسی کے لیے دنیا بھر اور خاص طور پر عرب دنیا میں جانے جاتے تھے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ اور جاپان کے درمیان تعاون اور دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے سنہ 2020 میں عرب دنیا کا دورہ کیا جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان آئے۔ جنوری 2020میں ایبے سعودی عرب پہنچے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

شنزو آبے مملکت کے دورے کے موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان کے ہمراہ
شنزو آبے مملکت کے دورے کے موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان کے ہمراہ

شنزو آبے کو ایم ایس ڈی ایف مشن کے لیے ولی عہد کی طرف سے مکمل تعاون حاصل ہوا، جس کا مقصد خطے میں جاپان سے متعلق بحری جہازوں کی محفوظ نیویگیشن کو یقینی بنانے کے لیے معلومات اکٹھا کرنا ہے۔

ایم ایس ڈی ایف کے دو پی سی تھری طیارے جنوری میں اپنے مشن پر روانہ ہوئے اور ایم ایس ڈی ایف کا تکانامی ڈسٹرائر دو فروری 2020 کو مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوا۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس کے بعد خطے میں استحکام اور امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مملکت کے دورے میں سابق جاپانی وزیر اعظم کے العلاء بھی گئے جس سے قدیم نباتین سائٹ خبروں میں اجاگر ہوئی۔ متحدہ عرب امارات اور عمان جانے سے پہلے شنزو ایبے کا آخری پڑاؤ العلا میں تھا۔

سابق جاپانی وزیراعظم نے ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے بھی ملاقات کی تھی اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے گروپ آف 20 کے اجلاس کی کامیابیوں کے لیے اپنے تعاون کا اعادہ کیا۔

اپنی 40 منٹ کی گفتگو میں شاہ سلمان نے توقع ظاہر کی تھی کہ ان کا ملک اور جاپان نہ صرف توانائی کے شعبے میں بلکہ مختلف شعبوں میں اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسیع کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں