سعودی عرب کے جازان میں ‘جبال القہر‘ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں جازان کا علاقہ مملکت کی سب سے عجیب و غریب چوٹیوں کی وجہ سے مشہور ہے جہاں پہاڑوں کا ایک سلسلہ بلندی کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ ان کے بیچ میں تنگ وادیاں ہیں۔ ان چٹانوں کے بیچ سے اگنے والے درخت منفرد منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ علاقہ سیاحوں،آثار قدیمہ کے ماہرین اور مہم جوئی کرنے والوں کے لیے پسندیدہ مقام ہے۔

"سعودی" چینل کے مطابق جبال القہر جازان کے شمال مشرق میں الریث گورنری سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

جازان کے جبال القہر

جازان کے اس پہاڑی سلسلے کا ایک نام ’کوہ زھوان‘ بھی ہے اور آج تک یہ نام لیا جاتا ہے۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ پہاڑ کی دشواری اور اس پر چڑھنے میں پیش آنے والی مشقت کی وجہ سے اسے’کوہ القہر‘ کہا نام دیا گیا۔

القہر پہاڑ ایک مخروطی اور سڈول شکل کا پہاڑ ہے، جس میں مخصوص چٹانوں کی تشکیل، تیز تنزلی اور اونچی ڈھلوانوں کے ساتھ ساتھ گہری وادیوں کے علاوہ، تنگ وادیاں اس کے گرد موجود ہیں۔ان میں سب سے مشہور وادی لجب ہے۔ پہاڑ کے اطراف میں کئی شہر اور گاؤں آباد ہیں۔

القہرہ پہاڑوں کی سرحد مغرب میں وادیوں کے ایک گروپ سے ملتی ہے جو وادی بیش اور جبل القہرہ "المائدہ" سے ملتی ہےجب کہ مشرق میں متعدد وادیاں اور پہاڑ ہیں۔ جبال القہرہ اور الفرشہ گورنری کے درمیان جنوب میں عسیر کا علاقہ ظہران واقع ہے۔ جنوب میں جبل اسود اور شمال میں وادی بیش واقع ہیں۔

جبال القہرہ پہاڑوں کی خصوصیات مختلف پودوں کے احاطہ اور وادیوں کے کناروں پر پھلتی پھولتی بستیاں ہیں۔ اس میں نایاب درختوں کا ایک گروپ شامل ہے جن میں جونیپر کے درخت، اور ایسے درخت جو کھجوروں اور کونیفر کی اقسام سے ملتے جلتے ہیں پائے جاتے ہیں۔

جبال القہر کی وجہ سے الریث گورنری کا موسم اور آب و ہوا معتدل رہتی ہے اور شہری اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے دوسعے علاقوں سے الریث گورنری کا رخ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں