سعودی مصورمحمد باجبیر ایک غیر روایتی اسکول آف آرٹ یعنی "ٹائپوگرافی" کے ذریعے عربی خطاطی کے جمالیاتی حُسن کو مصوری کے فن کے ساتھ مربوط کرنےکی کوشش کررہے ہیں اور وہ اس میدان میں کامیاب بھی رہے ہیں۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سےگفتگو کرتے ہوئے باجبیر نے کہا کہ خطاطی اور ڈرائنگ دونوں میں مجھے اچھے خاصی مہارت حاصل اور اسی وجہ سے میں اپنی پینٹنگز میں ان کو یکجا کرنے کا خواہشمند تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا آرٹ مشن "آرٹ میں دلچسپی اور اس کی مسلسل مشق پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ پیشہ ورانہ مہارت تک پہنچ سکے اور فائن آرٹس کے بہت سے اسکولوں میں مشق کر کے ہنر کو نکھارا جائے"۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جس فن پر عمل پیرا ہوں وہ "ڈیزائن کے اندر تحریروں کو ترتیب دینے اور ان کو مربوط کرنے کا فن ہے۔ اس میں حروف کے سائز کو کم کرنا اور بڑا کرنا یا حروف اور لکیروں کے درمیان خالی جگہوں کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد ڈیزائن میں ایک مخصوص پیغام پہنچانا ہے، چاہے وہ لکھا ہو، ہاتھ سے کھینچا گیا ہو یا کمپیوٹر کے ذریعےتشکیل دیا گیا ہو۔
باجبیر نے بتایا کہ ان کا تعلق فن اور آرٹ سے محبت کرنے والے خاندان سے ہے۔ میں انیس سال سے آرٹ میں کام کررہا ہوں۔
انھوں نے بتایا کہ میں نے "ڈرائنگ کے تمام مراحل" کو چھوڑ کر تمام فنکارانہ طریقوں سے پینٹ کیا لیکن میں نے اس قسم کے فن کو ترجیح دی جسے سماجی رابطوں کی سائٹس پر بے حد سراہا گیا اور اپنے اس آرٹ کی بہ دولت مقامی اور عرب ممالک کی سطح پر کئی ایوارڈ جیتے۔