.

عراق کے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدرکا نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے طاقتورشیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور نئے عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تیل کی دولت سے مالا مال لیکن جنگ زدہ ملک میں حالیہ سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد مقتدیٰ الصدر نے بدھ کو ایک بیان میں انقلابی اور پرامن عمل، پھر پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد قبل ازوقت جمہوری انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے بلاک نے گذشتہ سال اکتوبرمیں منعقدہ انتخابات میں عراقی پارلیمان کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں مگرگذشتہ 10 ماہ کے دوران میں ان کے بلاک سمیت کوئی بھی انتخابی اتحاد حکومت کی تشکیل کے لیے درکار اکثریت نہیں حاصل کرسکا۔اس وقت ملک میں کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی نیاوزیراعظم یا صدر ہے۔

مقتدیٰ الصدرنے ٹیلی ویژن پرایک تقریر میں کہا کہ انھیں اپنے حریفوں کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔انھوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ ’’وہ ان افواہوں پرکان دھریں اور نہ یقین کریں کہ میں کوئی بات چیت کرناچاہتا ہوں‘‘۔

انھوں نے واضح کیا کہ’’ہم پہلے ہی ان کے ساتھ بات چیت کی کوشش اورتجربہ کرچکے ہیں۔اس سے ہمارے اورقوم کے لیے کچھ نہیں برآمد ہوا بلکہ صرف بربادی اور بدعنوانی ہی ہوئی ہے‘‘۔

ان کی تقریرایسے وقت میں نشر کی گئی ہے جب ان کے حامیوں نے گذشتہ پانچ روز سے بغداد کے قلعہ نما گرین زون میں واقع پارلیمنٹ پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ ایران کے حمایت یافتہ رابطہ فریم ورک نامی حریف شیعہ دھڑے کی جانب سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

ان کے حامیوں کے پارلیمان پردھاوے کا محرک ان کےحریف ایران نوازشیعہ بلاک کی جانب سے محمد شاع السودانی کی وزیراعظم کے عہدے پرنامزدگی ہے۔السودانی کا انتخاب ایک سیاسی اتحاد ’ریاستی قانون‘ کے رہ نما اورسابق وزیراعظم نوری المالکی نے کیا ہے۔

لیکن ان کی پارلیمان سے بہ طور وزیراعظم منظوری سے قبل سیاسی جماعتوں کوعراق کے نئے صدر کے انتخاب پر متفق ہونا ہوگا۔اس کے بعد پارلیمان پہلے صدر اور نائب صدور کا انتخاب کرے گی۔

مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے پارلیمنٹ کے ارد گرد خیموں اور کھانے پینے کے اسٹال کے ساتھ ایک کیمپ قائم کررکھاہے۔

دریں اثناء عراق کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے تمام فریقوں کواکٹھا کرنے کے لیے ’’قومی مکالمے‘‘پرزوردیا ہے اورانھوں نے صدر برہم صالح سے اس سلسلے میں بات چیت کی ہے۔

عراقی خبررساں ادارے کے مطابق دونوں شخصیات نے ملک میں ’’سلامتی اوراستحکام کی ضمانت‘‘کی اہمیت پر زوردیا۔

اس سے قبل بغدادمیں اقوام متحدہ کے مشن نے عراقی رہنماؤں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ملک کواوّلیت دیں اور طویل عرصے سے جاری اقتدار کے لیے کش مکش کا خاتمہ کریں۔

مشن نے خبردارکیا کہ تمام عراقی جماعتوں کے درمیان بامعنی بات چیت اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوچکی ہےکیونکہ حالیہ واقعات نے اس کشیدہ سیاسی ماحول میں تیزی سےاضافے کااشارہ دیاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں