.

غزہ کی پٹی سے راکٹوں کی بارش کے بعد اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں ایک کے بعد غزہ کی پٹی سے اسرائیل راکٹ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

العربیہ/الحدث کےنامہ نگار نے بتایا ’’کہ وسطی اسرائیل میں خاص طور پر عسقلان میں سائرن کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ ایمبولینس ٹیموں نے زیر زمین محفوظ پناہ گاہیں کھولنے کے علاوہ اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق اسرائیل کا دعوی ہے کہ غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،‘‘ جب کہ اسرائیل نے اندازہ لگایا ہے کہ غزہ میں کشیدگی دنوں تک جاری رہے گی۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ آئرن ڈوم نے غزہ سے داغے گئے 100 راکٹوں میں سے 40 کو اہداف تک پہنچنے سے قبل فضا میں ناکارہ بنا دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے اسلامی جہاد تحریک کی کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لیے "طلوع فجر" آپریشن شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو لوگ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں، انہیں ختم کریں گے۔ ان کا وجود نہیں رہے گا"۔

"طلوع فجر"

انہوں نے مزید کہا ’’کہ ہماری سکیورٹی سروسز پوری طرح سے کام کر رہی ہیں۔ تل ابیب اپنی سرزمین کو کسی بھی خطرے یا نشانہ بنانے کو قبول نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل، غزہ میں کسی جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتا لیکن ہم ہمیں کوئی خوف خطرہ اور ڈر نہیں۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ نے اعلان کیا ہے ’’کہ اسرائیلی فوج نے ایک آپریشن شروع کیا ہے جس کا مقصد اسلامی جہاد تحریک کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد ایک "آنے والے خطرے" پر قابو پانا ہے۔‘‘

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کے خصوصی دستوں اور توپ خانے نے جمعہ کو غزہ کی پٹی میں اس تحریک سے تعلق رکھنے والے اہداف پر بمباری کے بعد اسلامی جہاد تحریک کی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس میں موجود ایک اہم رہ نما کی ہلاکت ہوئی تھی۔

دریں اثنا، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ چیف آف اسٹاف نے فوج کو ہنگامی حالت میں رہنے اور چیف آف اسٹاف کے دفتر میں اعلیٰ آپریشن روم کو کھولنے کی ہدایت کی۔

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں کشیدگی کے باعث 25000 ریزروسٹ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پندرہ افراد جاں بحق

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے جمعہ کو غزہ پر کیے گئے فضائی حملوں میں 15 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ فوج کا کہنا تھا کہ اسلامی جہاد کے خلاف اس کا آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے میڈیا کو بتایا کہ "ہمارے جائزے کے مطابق، آپریشن میں 15 افراد مارے گئے۔" ان کا کہنا تھا کہ آپریشن "ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس آپریشن میں اب تک اسلامی جہاد تحریک کے ایک سینئر رہ نما کو پیشگی حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اخبار (ٹائمز آف اسرائیل) کے مطابق اسرائیل ان علاقوں میں اپنی افواج کو مزید تقویت دے گا جن کو راکٹوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ حملے اس ہفتے کے شروع میں مغربی کنارے کے شہر جنین میں ایک چھاپے کے دوران اسلامی جہاد تحریک کے ایک سرکردہ رہ نما بسام السعدی کی گرفتاری کے بعد کیے گئے ہیں۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی تمام کراسنگ اور کچھ قریبی سڑکیں بند کر دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں