وائٹ ہاؤس نے جمعرات کی شام کہا ہےکہ امریکی صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دیں گے اگر یہ قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔
وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی جوہری معاہدے کے حوالے سے تمام حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
قبل ازیں ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے نمائندے میخائل الیانوف نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مسودے میں ترمیم کی کوئی بھی تجویز مذاکرات کو طول دے گی۔
انہوں نے کہا کہ "شرکاء کو کثیر جہتی سفارت کاری کے معمول کے مطابق متن میں تبدیلی کی درخواست کرنے کا حق ہے" الیانوف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا۔ "ہمیں صبر کرنا چاہیے" ۔
قبل ازیں تہران نے تصدیق کی تھی کہ وہ ایٹمی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے جتنی امریکا اور یورپ کو ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنا جوہری مذاکرات کی شرط نہیں ہے۔
ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ ایرانی حکومت کی ایکسپیڈینسی کونسل جوہری معاہدے کے فارمولے سے متعلق مشاہدات پر امریکی ردعمل کا مطالعہ کر رہی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اگر کونسل نے امریکی جواب کی منظوری دی تو جوہری معاہدے پر دستخط پانچ ستمبر کو ہوں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسے جوہری معاہدے کے حتمی متن پر کیے گئے تبصروں پر امریکی ردعمل موصول ہو گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے امریکی ردعمل کا بغور مطالعہ شروع کر دیا ہے اور اس کی رائے یورپی رابطہ کار تک پہنچائی جائے گی۔
بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں باہمی واپسی کے لیے سفارتی راستے پر گامزن ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ’العربیہ‘ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی باہمی واپسی امریکا کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے سفارت کاری بہترین آپشن ہے۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ واشنگٹن نے یورپی تجویز کے جواب میں تہران کی جانب سے رکھی گئی تمام اضافی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔