اسرائیل کیساتھ سرحدی حد بندی معاہدہ کے حتمی مسودے پر "مطمئن" ہیں: لبنان

آموس ہوکسٹائن کی کوششیں تاریخی معاہدے پر منتج ہو سکتی ہیں: لبنانی ڈپٹی پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الیاس بوصعب نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ سمندری سرحد کی حد بندی کے لیے امریکہ کی ثالثی میں ایک معاہدے کا حتمی مسودہ موصول ہو گیا ہے جو لبنان کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ یہ مسودہ جلد ہی ایک "تاریخی معاہدے" میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

ہوصعب نے حتمی مسودہ موصول ہونے کے چند منٹ بعد رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو، آموس ہوکسٹائن کی کوششیں ایک تاریخی معاہدے کا باعث بن سکتی ہیں۔

واضح رہے امریکی ثالث ہوکسٹائن دونوں ممالک کے درمیان مہینوں سے شٹل ڈپلومیسی میں مصروف ہیں۔

بوصعب نے کہا "ہمیں حتمی مسودہ چند منٹ قبل موصول ہوا، لبنان نے محسوس کیا کہ یہ لبنان کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ دوسری طرف والوں کو بھی ایسا ہی محسوس کرنا چاہیے"

معاہدے کے تازہ مسودے کے بارے میں سرکاری اسرائیلی نقطہ نظر ابھی واضح نہیں ہے۔

اس سے قبل اتوار کو لبنانی صدر میشال عون نے کہا تھا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ اپنی سمندری سرحدوں کی حد بندی کرنے کی تجویز کا حتمی ورژن چند گھنٹوں میں حاصل کر لے گا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ امریکی ثالث نے انہیں ایک فون کال میں بتایا کہ تجاویز پر تحفظات کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ لبنانی ایوان صدر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "لبنانی فریق مناسب فیصلہ لینے کی تیاری میں ہوکسٹائن کی تجویز کے حتمی ورژن کا بغور مطالعہ کرے گا۔"

گزشتہ ہفتے اسرائیل نے معاہدے کے مسودے میں لبنان کی طرف سے کی گئی آخری لمحات کی تبدیلیوں کو مسترد کر دیا تھا۔

جس سے اس حوالے سے جاری برسوں کی سفارتی کوششوں سے متعلق شکوک پیدا ہوگئے تھے۔

دونوں ممالک اختلافات کو دور کرنے کی کوشش میں گزشتہ دنوں امریکی ثالث کے ذریعے قریبی رابطے میں رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں