سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن نے ان لوگوں کو خبردار کیا جو مملکت میں غیرقانونی دراندازی میں بیرون ملک سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور انہیں اپنے ہاں پناہ دیتے ہیں۔ ایسے عناصر کے لیے سعودی عرب کی حکومت نے پندرہ سال قید اور دس لاکھ ریال کا بھاری جرمانہ مقرر کیا ہے۔
بلک پراسیکیوشن نے ٹویٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے کہا ہے کہ جو کوئی بھی دراندازی کرنے والوں مملکت میں داخلے کی سہولت فراہم کرتا ہے، اسے ملک کے اندر لے آتا ہے۔ اس کا یہ اقدام ناقابل معافی تصور ہوگا اور جرم ثابت ہونے پراسے 10 سال قید اور 10لاکھ ریال جرمانہ کی سزا سنائی جائے گی۔
پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی یا رہائش، ضبطی کا موضوع دوسروں کی جائیداد سے متعلق ہے، تو اسے 10 لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا دی جائے گی، لیکن اس صورت میں کہ دراندازی کرنے والے کا کردار یا پناہ گاہ ٹھیک ہوجان بوجھ کر اور غفلت یا سنگین لاپرواہی سے کام لیا تو اسےپانچ لکھ ریال تک جرمانہ کیا جائے گا۔