زندگی مختلف ملکوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے وقف کردی : اسامہ القصیبی

ڈی مائننگ آپریشنز میں 5 غیر ملکی، 30 مسام ملازمین جاں بحق ہوچکے: ’’مسام‘‘ پراجیکٹ کے مینجر کا ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

دنیا بھر میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے آپریشنز میں حصہ لینے والے سعودی عرب کے اسامہ القصیبی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا "میں نے اپنی زندگی دنیا کے بہت سے ممالک میں مائننگ آپریشنز میں حصہ لینے کیلئے وقف کر دی تھی۔" یہ وہ اسامہ ہیں جنہوں نے زندگی کو درپیش خطرات کے باوجود اپنے کام کو جاری رکھنے کی ترجیح دی ہے۔ خلیجی جنگ کے دوران انہوں نے برطانوی بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے ماہر گائے لاکز سے تربیت حاصل کرکے وہ دس سال تک بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے کام میں لگے رہے۔ یہ سلسلہ اس کے بعد بھی چلتا رہا اور اس وقت وہ یمنی زمینوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے منصوبے ’’مسام‘‘ کے جنرل مینجر کے عہدے پر فائز ہیں۔

اسامہ نے اکتوبر 2001 میں جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مائننگ آپریشنز کے انتظام میں سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے پہلے عرب کے طور پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنا تجربہ بتایا ۔ انہوں نے اپنے سائنسی اور عملی کیریئر کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں ’’مسام‘‘ پروجیکٹ کے انتظام سنبھالتے ہوئے پیش آنے والے چیلنجز سے بھی آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2017 میں مجھے یمنی زمینوں سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور صاف کرنے کے لیے "مسام" پراجیکٹ کا انتظام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جو اب مسلسل پانچویں سال یمنی زمینوں کے اندر بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہا ہے۔ کورونا بحران کے دوران بھی مسام پراجیکٹ نے معصوم جانوں کو بچانے کے آپریشنز جاری رکھے۔ اور انسانی ہمدردی کے اس کام کو بہتر بنایا۔ یہ پراجیکٹ سعودی عرب کی طرف سے یمنی عوام کو فراہم کیے جانے والے اہم ترین انسانی کاموں میں سے ایک ہے۔

’’ مسام‘‘ منصوبے کا خیال

بات چیت کے دوران اسامہ القصیبی نے وضاحت کی کہ "مسام" منصوبے کا خیال یمنی عوام کی مدد کرنے کے لیے آیا ہے تاکہ یمن کی متعدد گورنریوں میں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز آلات کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سانحات پر قابو پایا جا سکے۔ ’’ مسام‘‘ کا آغاز جون 2018 کے وسط میں یمن میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے شاہ سلمان سینٹر فار ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایکشن کی چھتری تلے کیا گیا تھا۔ سعودی اور بین الاقوامی ماہرین اور یمنی کیڈرز نے ان بارودی سرنگیں ہٹانے کی تربیت لی جن کو حوثی ملیشیا نے یمنی زمینوں پر لگایا تھا۔

اسامہ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’ مسام‘‘ پراجیکٹ ’’بارودی سرنگوں کے بغیر زندگی‘‘ ہے۔ یہ جملہ یمنی زمینوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے منصوبے کے بلند مقصد کا خلاصہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک انسان دوست منصوبہ ہے ۔ یہ بارودی سرنگیں کئی بے گناہ شہریوں، بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی جانیں لے چکی ہیں۔

اعداد و شمار

القصیبی نے انکشاف کیا کہ "جب سے یہ منصوبہ جون 2018 کے وسط میں شروع ہوا ہے، "مسام" پروجیکٹ کی انجینئرنگ ٹیمیں 3 لاکھ 58 ہزار 863 بارودی سرنگیں، نہ پھٹنے والے آرڈنینس اور دھماکہ خیز آلات کو صاف کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ ان میں 467 بارودی سرنگیں بھی شامل ہی۔ 2 لاکھ 13 ہزار 930 نہ پھٹنے والے آرڈنینس، ایک لاکھ 31 ہزار 890 اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں، 5 ہزار 576 اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں بھی صاف کی گئی ہیں۔ انجینئرنگ ٹیمیں یمن میں 38 ہزار 488 مربع کلومیٹر زمین کو صاف کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

ان تمام بارودی سرنگوں، آئی ای ڈیز اور گولوں کو "مسام" پروجیکٹ کی انجینئرنگ ٹیموں نے یمن کے 11 علاقوں سے ہٹاٹا ہے۔ ان گیارہ علاقوں میں صنعاء، الجوف، شبوة، مأرب، الحديدة، تعز، عدن، البيضاء، صعدة، الضالع، لحج شامل ہیں۔

مسام پروجیکٹ کی ٹیمیں دو قسم کی معروف بارودی سرنگوں سے نمٹتی ہیں۔ مقامی بارودی سرنگیں جو ملیشیا اپنی فیکٹریوں میں تیار کرتی ہے۔ یہ کل بارودی سرنگوں کا 85 فیصد ہیں۔ تیار کیے گئے دھماکہ خیز آلات سے بھی نمٹا جاتا ہے۔ اسے بغاوت کرنے والی ملیشیا نے پتھروں، لوہے کے کنکریٹ اور دیگر جانی پہچانی اور دھوکہ دینے والی شکل میں چھپایا ہوتا ہے۔ دھماکہ خیز مواد کو ایک الیکٹرک کیپسول سے منسلک کردیا جاتا ہے۔

کار کے ٹائروں میں دھماکا خیز آلات سے بھی نمٹا جاتا ہے۔ ٹیمیں بڑی مقدار میں چھپائی گئی اور خطرناک دھماکہ خیز بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں کامیاب رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں باغی ملیشیاؤں کے ذریعہ استعمال کی جانے والی خطرناک شکلوں میں گانٹلیٹ بارودی سرنگیں بھی صاف کی گئی ہیں۔ اسی طرح فش مائنز اور دیگر مائنز کو ہٹایا گیا۔

مسام پروجیکٹ کو درپیش چیلنجز

اسامہ القصیبی نے مزید کہا کہ آج ہمیں روایتی معنوں میں ڈیمائننگ آپریشنز کا سامنا نہیں ہے، بلکہ ہمیں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز آلات کی جنگ کا سامنا ہے جس سے ہم جدید تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے نمٹتے ہیں۔ نئی بارودی سرنگوں سے سے نمٹنے کے لیے ٹیموں کی مسلسل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیمو فلاج کی گئی بارودی سرنگیں سامنے آرہی ہیں، نئی اور جدید طرز کی بارودی سرنگیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق ان بارودی سرنگوں سے نمٹنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جو سرنگ گزشتہ سال بچھائی گئی تھی وہ آج کی سرنگ سے مختلف ہوگی ۔ آج کی سرنگ اس سے زیادہ پیچیدہ اور بہتر کام کرنے والی ہوگی۔

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ ’’جب بھی میرا کوئی ساتھی بارودی سرنگوں سے زمین صاف کرنے اور صاف کرنے کی کارروائیوں میں شہید ہوتا ہے، میں اپنا ایک حصہ کھو بیٹھتا ہوں اور یہ صورت حال یاد میں اٹکی رہتی ہے جسے برسوں بھلایا نہیں جا سکتا۔ ہم سب کا ماننا ہے کہ بارودی سرنگیں ہٹانے کے میدان میں ہم وہ قربانی دیتے ہیں جو کام کو جاری رکھنے کے لیے دکھوں کو دفن کر دیتے ہیں۔ یہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے قربانی اور اخلاص کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ ڈیمائننگ کا میدان ایک خطرناک میدان ہے، اور ہم اس صورتحال کی سنگینی کو جانتے ہوئے ہر روز میدان میں جاتے ہیں جہاں ہمیں اپنی جان سے ہاتھ دھونے، مہلک چوٹ یا مستقل معذوری کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ جانتے ہیں کہ ہر نہ پھٹنے والا بم یا گولہ بارود سے بدلے میں آپ زمین پر ایک جان بچا رہے ہیں تو آپ کو اپنا مقصد حاصل ہوجاتا ہے ۔

اساامہ نے بتایا کہ 2018 میں اس منصوبے کے آغاز سے لے کر اب تک مائننگ آپریشنز کے نتیجے میں 5 غیر ملکی ماہرین سمیت 30 ’’مسام‘‘ ورکرز ہلاک ہوچکے ہیں۔ 52 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں