ہالینڈکی حکومت نے شام کے شمالی علاقے میں قائم حراستی کیمپوں سے اپنی شہری بارہ خواتین اور 28 بچوں کووطن واپس لانے کا اعلان کیا ہے۔
وطن لوٹنے پرانھیں شدت پسند گروپ داعش میں شمولیت اختیار کرنے پرمقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ڈچ حکومت کا یہ اقدام مئی میں ایک عدالت کی جانب سے خواتین کو فوری طور پرنیدرلینڈز واپس لانے کی سفارش کے بعد سامنے آیا ہے۔عدالت نے قراردیا تھا کہ اگر ان کی فوری واپسی ممکن نہیں توچارماہ کے اندر انھیں واپس آنے کا وعدہ کیا جائے گا۔
دوحکومتی وزراء نے منگل کو بتایا ہے کہ کابینہ دہشت گردی کے جرائم میں ملوّث 12 ڈچ خواتین اور ان کے 28 بچّوں کونیدرلینڈزمنتقل کر رہی ہے۔
ڈچ وزیرخارجہ ووپکے ہوکسٹرا اور وزیر انصاف دلان یسلگوز زیگیریس نے پارلیمان کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ ان خواتین کو نیدرلینڈز پہنچنے کے بعد گرفتارکرلیا جائے گا اوران پر مقدمہ چلایا جائے گا۔
وزارتی خط میں یہ بتانے سےانکارکیا گیا ہے کہ خواتین اور بچوں کو شام میں واقع کس کیمپ سے لایاجائے گا یا کب لایا جائے گا،البتہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ ان کی واپسی’’خصوصی آپریشن‘‘ کے ذریعے ہوگی۔
وزراء نے مزید کہا کہ بچوں کو دیکھ بھال کے لیے ڈچ چائلڈ پروٹیکشن سروسز کے سپردکیا جایا جائے گا۔
واضح رہے کہ سنہ 2019 میں شام اورعراق میں داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد سے مغربی ممالک اس مخمصے کا شکارہیں کہ شام میں حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں سے کیسے نمٹاجائے۔
یورپ سے ہزاروں انتہاپسندوں نے جنگجوکی حیثیت سے داعش میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کا رُخ کیا تھا اوراکثر اپنی بیویوں اور بچوں کوان دونوں ملکوں کے’’مفتوحہ‘‘علاقوں میں اعلان کردہ "خلافت" میں رہنے کے لیے لے آئے تھے۔
ڈچ حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق، خانہ جنگی کے عروج کے دوران میں قریباً 300 ڈچ شہریوں نے شام کا سفر کیا تھا۔ان میں قریباً 120 افراد اب بھی شام میں موجود ہیں۔ان میں سے زیادہ ترشمالی شام یا عراق اور ترکی میں کردوں کے زیرقبضہ کیمپوں اور حراستی مراکزمیں ہیں۔
شام سے نیدرلینڈزمیں انتہاپسندجنگجوؤں کی واپسی سیاسی طور پر حساس موضوع ہے اور ملک کی انسداد دہشت گردی ایجنسی نے خبردارکیا ہے کہ واپس آنے والے شہریوں کا ارادہ ’’جہادی سرگرمیوں کی حمایت‘‘جاری رکھنے کا ہوسکتا ہے۔
ہالینڈکی عدالت نے رواں سال کے اوائل میں ایک خاتون کو داعش میں شامل ہونے کے جرم میں ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔28سالہ الہام بی کو گذشتہ سال شام کے شمالی صوبہ الحسکہ میں واقع الروج حراستی کیمپ سے واپس لایا گیا تھا۔وہ 2013 میں اپنے شوہرکے ساتھ شام گئی تھی اور وہاں داعش اور جبہ النصرہ دونوں شدت پسند گروپوں میں میں شامل رہی تھی۔
فروری میں حکومت الروج کیمپ سے پانچ خواتین کو نیدرلینڈز میں واپس لائی تھی اور اب ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔شام سے مستقبل قریب میں وطن واپس لائے جانے والے ڈچ داعشیوں اور ان کے وابستگان کومقدمات کا سامناہوسکتا ہے۔