سعودی وزیر خزانہ کی ٹھیکیداروں کو گزشتہ کمزور منصوبوں کے بقایاجات اداکرنے کی ہدایت
ٹھیکیداروں اور سرکاری اداروں کے درمیان تنازعات حل کئے جائیں : محمد الجدعان
سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے ٹھیکیداروں کے ساتھ سابقہ کمزور منصوبوں کے معاہدوں کے باقی رہ جانی والے واجبات ادا کرنے کی ہدایت کردی۔ محمد الجدعان نے کہا کہ ٹھیکیداروں اور سرکاری اداروں کے درمیان تنازعات حل کر لئے جائیں۔
نیشنل کنٹریکٹرز کمیٹی کے چیئرمین حمد الحماد نے کہا کہ اس فیصلے سے ٹھیکیداروں کو درپیش سب سے اہم چیلنجوں میں سے ایک کو حل کرلیا گیا ۔ اس فیصلے سے کنٹریکٹس کے شعبہ پر اور اس کی خوشحالی اور سرگرمی پر مثبت اثر پڑے گا۔ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے مختلف منصوبے متاثر ہوتے ہیں اور اسی پراجیکٹس اور مختلف کمپنیاں ناکامی سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ اب اس
فیصلے سے کمپنیوں کو مالیاتی ڈیفالٹ کے مسائل حل کرنے، نقدیت کی فراہمی ہوگی اور مالی بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
حمد الحماد نے مزید کہا کہ کمیٹی ٹھیکیداروں کے مسائل کو چھونے اور ان کے بارے میں آراء اور تجاویز کو متعلقہ حکومتی اداروں کے سامنے پیش کرنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے ۔ان تجاویز میں بقایا جات کی تقسیم میں تاخیر کا مسئلہ اور اس کے ٹھیکیدار اور پراجیکٹ پر عمل درآمد پر پڑنے والے برےاثرات کو کرنے جیسے مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مملکت میں کنٹریکٹ سیکٹر معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس شعبے میں کمپنیوں کی تعداد 176 ہزار سے زائد اداروں پر مشتمل ہے۔ جن کی سالانہ شرح نمو تقریباً 3 فیصد ہے۔ یہ سیکٹر مملکت کی ترقی میں 5.5 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے ۔ اس کا جی ڈی پی اور نان آئل جی ڈی پی میں 10.7 فیصد حصہ ہے۔ 2021 میں، ریاست کے تجویز کردہ پراجیکٹس کی تعداد 540 سے زائد پراجیکٹس تک پہنچ گئی تھی جن کی مالیت 120 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔