سعودی عرب: ڈاک اور پارسل کی لوکلائزیشن کے نفاذ کا اعلان

پہلے مرحلے میں 14 پوسٹل سرگرمیوں کو 100 فیصد تک مقامی بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت نے آج اتوار کو ایک بیان میں مملکت کے تمام خطوں میں "ڈاک کی سرگرمیوں اور پارسل ٹرانسپورٹیشن" کو مقامی بنانے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ 17 دسمبر 2022 تک ان سرگرمیوں کو مقامی بنانے کے فیصلے کے لیے مخصوص رعایتی مدت کے اختتام کے بعد یہ اعلان کیا گیا۔

"پوسٹل اور پارسل کی نقل و حمل کی سرگرمیوں" کو مقامی بنانے کے فیصلے میں اس کے پہلے مرحلے میں، 100 فیصد کی شرح سے 14 پوسٹل سرگرمیوں کی لوکلائزیشن شامل ہے۔ کلینر اور مال بردار اور اتارنے والے کارکن کے پیشوں کو تاحال لوکلائزیشن نہیں کی گئی۔

اس فیصلے کا مقصد ڈاک کی خدمات اور پارسل کی نقل و حمل کو مقامی بنانا ہے۔ جن سرگرمیوں کو لوکلائز کیا گیا ان میں

الیکٹرانک پلیٹ فارمز، پارسل ٹرانسپورٹیشن (مقامی اور بین الاقوامی)، پارسل کی نقل و حمل (مقامی)، ایکسپریس میل کی سرگرمیاں، میل اور پارسل کو بیگ کے ذریعے منتقل کرنے کی سرگرمیاں، آئٹمز اور پوسٹل پارسل وصول کرنے کی سرگرمیاں، لانے اور لے جانے کی سرگرمیاں، پوسٹل روم مینجمنٹ کی خدمات کی فراہمی اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل جاری کردہ فیصلے میں "چیف ایگزیکٹوز" کے پیشوں کو 100 فیصد تک لوکلائزیشن اور "سینئر مینجمنٹ‘‘ کے لیے پہلے درجے کی پوزیشنوں میں 60 فیصد تک مقامی بنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس فیصلے پر اپریل 2023 کے اوائل میں عمل مکمل کرنے کا ہدف تھا۔

دوسرے مرحلے میں "دوسرے درجے کی سینئر مینجمنٹ" کی ملازمتوں کو 70 فیصد تک لوکلائز کرنا شامل ہے جسے اکتوبر 2023 کے اوائل سے نافذ کردیا جائے گا۔ یہ فیصلہ وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے تعاون کے فریم ورک کے اندر کیا گیا ہے جس کی نمائندگی وزارت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں ہے ۔ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ سعودی لیبر مارکیٹ کو منظم کیا جا سکے، اسے ترقی دی جا سکے اور اس کی ترقی اور کارکردگی میں مرد اور خواتین شہریوں کی شرکت کو بڑھایا جا سکے۔ اور شہریوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔

وزارت نے ایک گائیڈ جاری کی جس میں فیصلے کی تفصیلات اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اداروں کو اس فیصلے کی دفعات پر عمل درآمد کرنے اور ان کی پابندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خلاف ورزی کی قانونی سزاؤں سے بچا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں