اسرائیل کی اسٹریٹجک ٹرین نے فلسطینیوں کے خوابوں کو چکنا چور کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

وقت کے ساتھ اسرائیل کے اندر المقیبلہ گاؤں کے فلسطینی لوگ اپنی سادہ زرعی زمین بچانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ یہ گاؤں پورے خطے میں اپنی غیر معمولی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے۔ اس کا رقبہ بیس لاکھ مربع میٹر نجی فلسطینی اراضی پر مشتمل ہے جو دیہاتیوں کی نصف زرعی اراضی کا حصہ ہے۔ کل زرعی رقبہ 30 لاکھ 800 ہزار مربع میٹر سے زیادہ نہیں ہے۔ منصوبے کے لیے اسرائیلی وژن کے مطابق یہ ریلوے شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین میں بین الاقوامی آزاد صنعتی زون سے اسرائیل کے اندر عفولہ شہر تک سامان کی ترسیل کا کام کرے گا اور اسے "مرج بن عامر" ریلوے اسٹیشن سے منسلک کیا جائے گا۔ جوعفولا سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اور یہ لنک مشرق کو بسان کی طرف، اور وہاں سے مستقبل میں اردن کے ساتھ ساتھ مغرب میں حیفا کی بندرگاہ تک تیار کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا تخمینہ ساڑھے تین ارب شیکل (تقریباً 883 ملین ڈالر) ہے، جس میں تقریباً 15 کلومیٹر کی لمبائی والی ڈبل لین سڑک کی تعمیر، پلوں اور سرنگوں کا نظام شامل ہے۔ اس میں ایک رقبہ سامان ذخیرہ کرنے کے لیے مختص کیاجائے گا اور ایک بارڈر کراسنگ اور مسافر اسٹیشن تعمیر کیا جائے گا۔

بھاری نقصانات

مقامی فلسطینی رہائشیوں کے مطابق المقیبلہ گاؤں کے ساتھ ریلوے کی توسیع اسے جنین کی طرف سے مغربی کنارے کے ساتھ سرحد پر مشرق کی طرف گرین لائن پر ایک "محصور گاؤں" میں تبدیل کر دے گی۔ یہودی قصبوں، نئی ریلوے اور شمال کی طرف جلمہ کراسنگ سے بھاری مالی نقصان ہو گا اور مستقبل کے کسی بھی امکان کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ یہ ریلوے سطح زمین سے 15 میٹر بلند ہو جائے گی جس میں ایک دیوار فاصل شامل ہو گی۔ جو کہ گاؤں کے مغربی جانب 21 میٹر لمبی ہو گا۔ گاؤں کی دوسری طرف بھی ایسا ہی ایک دیوار کھڑی کی جائے گی۔

متاثرہ دیہاتیوں میں سے ایک شہری محمود صالح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی زرعی اراضی کو محفوظ رکھنے اوران پر قبضے کو روکنے کے لیے منصوبے بنائے اور تمام طریقے آزمائے لیکن پلاننگ اتھارٹی ہم سے مشاورت کیے بغیر یا ہمارے اعتراضات سُنے بغیر اپنے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب کہ ہمارے اردگرد کے یہودی قصبے متاثر نہیں ہوئے۔ یہودی آباد کاراس منصوبے کے بارے میں بات چیت میں شریک تھے اورانہوں نے اپنے مشاہدات اور اعتراضات بھی پیش کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’میری زمین کا 80 ہزار مربع میٹر اس نام نہاد ریلوے منصوبے کے لیے غصب کیا جائے گا۔ یہ اسرائیل کے لیے ایک قومی منصوبہ ہےاور مجھے اس منصوبے کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس زمین کو کھونے سے میں اور میرا خاندان اپنے اس منصوبے سے محروم ہو جاؤں گا جس کے لیے میں نے اپنی زندگی کے کئی سال بچائے تھے۔

ہم آہنگی کا فقدان

تاہم لیگل سینٹر فار عرب مینارٹی رائٹس ان اسرائیل (عدالہ) اور "پلانرز فار پلاننگ رائٹس" تنظیم (بمکوم) کے ذریعے گاؤں والوں نے اس منصوبے پر اعتراض درج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "اسرائیل ریلوے نے ریل روٹ کے کسی متبادل کی جانچ نہیں کی۔ کوئی متبادل راستہ اس کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔اسکیم اپنے مجوزہ روٹ کے ساتھ جنین کے فری صنعتی زون تک براہ راست نہیں پہنچتی اور مستقبل میں اسے کسی بھی ٹرین اسکیم سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ رہائشیوں نے زور دیا کہ منصوبہ بندی کرنے والے حکام کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان علاقے میں کام کرنے والے تینوں (سرکاری اسرائیلی اتھارٹی، سول ایڈمنسٹریشن جو ایریا C میں منصوبہ بندی اور تعمیر کے لیے ذمہ دار ہے میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ اس فقدان نے ایسی صورتحال پیدا کی ہے جس میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے متصادم ہیں، کیونکہ نیا ریلوے روٹ دوسرے منصوبوں سے متصادم ہے جو پہلے ہی منظور ہو چکے ہیں اور اس کے مطابق تعمیر کیے جائیں گے۔ پاور پلانٹ اور گیس سٹیشن ایک پائپ لائن کے ذریعے فیڈ جینین میں بین الاقوامی صنعتی زون کے قریب گرین لائن سے گزرے گی۔

عدالہ نے اعتراض کے ذریعے کہا کہ "فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر اور اس کے منصوبے کے برخلاف یکطرفہ طور پر اسرائیلی منصوبے کو آگے بڑھانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔"

رہائشیوں کے اعتراض میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ تمام معقول معیارات کے مطابق ہمیں اس دستاویز کو ایک محفوظ مسودہ سمجھنا چاہیے۔

بیمکوم ایسوسی ایشن کے سیزر یہودکن نے کہا کہ مجوزہ منصوبہ "حقیقت کو زمینی طور پر حل نہیں کرتا اور المقیبلہ کے رہائشیوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔ ہمیں امید ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے ادارے جاگیں گے اور مجوزہ کورس کو منسوخ کر دیں گے۔

فلسطینی اتھارٹی نے ریلوے کی تعمیر کے منصوبے میں حصہ لینے کی اسرائیلی تجویز کو مسترد کر دیا اور فلسطینی شہری امور کی اتھارٹی کے سربراہ، حسین الشیخ نے اس سے قبل اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا "انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کو اس میں شرکت کی پیشکش کی۔ جنین سے حیفا تک اور وہاں سے کئی عرب دارالحکومتوں تک ریلوے لائن کا یہ ایک وسیع منصوبہ ہے لیکن انہوں نے اسے واضح طور پر مسترد کر دیا۔

اسٹریٹجک پروجیکٹ

"اسرائیل ریلوے کمپنی" اور اسرائیلی وزارت داخلہ کے محکمہ منصوبہ بندی کے مطابق یہ منصوبہ جو تاریخی حجاز ریلوے کو بحال کرنے کی کوشش ہے، جو بیسویں صدی کے آغاز میں لیونت اور حجاز کو ملانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ خطے کے مستقبل اور ترقی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اہمیت کا بنیادی ڈھانچہ ہے کیونکہ یہ اسرائیل، اردن اور فلسطینی اتھارٹی کے علاقوں کے درمیان سامان کی نقل و حمل کے قابل بنائے گا۔ سڑکوں پر ٹرکوں کی ٹریفک کی بھیڑ کو نمایاں طور پر کم کرے گا۔ سڑک پر ٹریک کی سطح پر علیحدگی جنکشن اور ندیوں پر پل بھی سڑکوں پر حفاظت کو بہتر بنائیں گے۔ اسرائیل ریلوے 2040 کے اسٹریٹجک پلان کے مطابق مسافر ٹرین نیٹ ورک مکمل کیا جائے گا۔

اسرائیل کی وزارت برائے نقل و حمل اور روڈ سیفٹی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق۔ یہ منصوبہ "بہت بڑا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ کی علاقائی معیشت کا چہرہ بدل دے گا۔اسرائیل کو ریل کے ذریعے خطے کے کئی ممالک سے جوڑے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں