نئے سال کے پہلے ہی روز دبئی میں شراب فروخت کرنے والے اداروں کی لائسنسنگ ختم کردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شراب کی فروخت کے لیے دبئی میں عائد 30 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کی شرط ختم کر دی ہے۔ سال 2023 کے پہلے روز اتوار کو حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے شراب کی فروخت سے متعلق دکانوں اور بارز کے لیے لائسنسنگ فیس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے دبئی میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور دبئی میں آنے والے سیاحوں کے لیے شراب کی قیمت میں امکانی طور پر کمی ہو گی۔ بظاہر یہ اچانک فیصلہ دبئی کے حکمران شاہی خاندان کی طرف سے کیا گیا ہے۔ کیونکہ ابھی تک حکومت کے کسی اہلکار نے اس بارے میں کسی سوال کا جواب دیا ہے نہ ہی اس اعلان کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔

تاہم اس اعلان سے سالہا سال سے شراب پر بالواسطہ طور پر عائد کیا گیا ایک بڑا اور اہم ٹیکس ختم ہوجائے گا۔ اس سے پہلے بھی دبئی میں شراب کی خرید و فروخت میں کافی آسانی فراہم کی جا چکی ہے۔ رمضان المبارک کے دوران بھی دن کے وقت شراب کی خرید و فروخت کی اجازت ہے۔

نیز کووڈ 19 کے دنوں میں بھی ہوم ڈلیوری کی سہولت دبئی کے رہائشیوں کے لیے شروع کر دی گئی تھی۔ بعض لوگ دبئی میں شراب کی فروخت کو یہاں کی معیشت میں ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ کیونکہ پورے متحدہ عرب امارات میں دبئی بیرون ملک سے آنے والوں کی اہم منزل ہے۔

قطر میں ورلڈ کپ کے دوران بھی دبئی کے شراب خانوں نے فٹ بال شائقین کو اس سلسلے میں اپنی جانب زیادہ متوجہ رکھا کہ شراب کی ایک پنٹ دس ڈالر میں دستیاب ہوجاتی ہے۔ لیکن فوری طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ دبئی میں شراب فروخت کرنے والی کمپنیوں کی لائسنسنگ فیس کے خاتمے سے شراب کی عمومی قیمت نیچے آئے گی یا اس سے صرف خوردہ سطح کے خرید داروں کو ہی فائدہ ہو گا۔

دبئی میں الکحل ڈسٹری بیوشن سے متعلق ادارے ' میری ٹائم اینڈ مرکنٹائل انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ہم نے تقریباً ایک سو سال پہلے جب دبئی میں اپنے آپریشنز شروع کیے تھے تب سے امارات کی اپروچ غیر معمولی طور پر متحرک و جاندار، حساس اور سب کے لیے رہی ہے۔

مرکنٹائل انٹرنشنل نے مزید کہا ' تازہ اپ ڈیٹس اور قواعد اسی لیے ہیں دبئی اور امارات میں شراب کی محفوظ اور ذمہ دارانہ خریداری یقینی بنائی جائے۔' تاہم ایم ایم آئی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اتوار کے روز سامنے آنے والا اعلان مستقل ہے یا عارضی اور وقتی ہے۔

البتہ ایم ایم آئی کی طرف سے سامنے انے والے ایک اشتہار میں گاہکوں پر یہ زور دیا گیا ہے کہ وہ اسی کی دکانوں سے شرب خریدا کریں اب نہیں دبئی سے دور امارات کے دوسرے حصوں میں شراب خریدنے کے لیےجانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

دبئی کے رہائشی ام القووین اور امارات کی دوسری ریاستوں میں جاتے رہے ہیں تاکہ ٹیکس فری شراب خرید سکیں۔دبئی کے قانون کے مطابق صرف 21 سال اور اس بڑی عمر کےغیر مسلم لوگ شراب استعمال کرسکتے ہیں۔ ان شراب پینے والوں کو پلاسٹک کارڈز جاری کیے گئے ہیں۔ انہی کارڈز کے رکھنے والوں سے پولیس تعارض نہیں کرتی۔

لیکن یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ دبئی میں شراب خانوں، نائٹ کلبوں اور دورے لاونجز میں کبھی کسی کو شراب کا پرمٹ دکھانے کا نہیں جاتا بلکہ شراب خریدنے یا استعمال کرنے والوں سے نرمی ہی برتی جاتی ہے۔

شارجہ کے مقابلے میں دبئی بہت لبرل جگہ ہے۔ شارجہ کی سرحد اگرچہ دبئی سے جڑی ہوئی ہے مگر شارجہ میں شراب کی اجازت نہیں ، اسی طرح خطے کے دیگر ملکوں سعودی عرب، کویت اور ایران میں بھی اجازت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں