غزہ میں حماس کی انتظامیہ کے تحت وزارت صحت نے جمعرات کے روز اسرائیل پرالزام عاید کیا ہے کہ وہ محصور فلسطینی علاقے میں مریضوں کے علاج کے لیے درکارمتعدد مخصوص ایکسرے مشینوں کو لانے کی اجازت دینے میں تاخیر کر رہا ہے۔
غزہ کی پٹی میں حکمران جماعت حماس کے زیر انتظام چلنے والی وزارت نے کہا ہے کہ گذشتہ 14 ماہ کے دوران میں موجودہ سازوسامان کی مرمت کے علاوہ آٹھ مختلف قسم کی ایکس رے مشینوں اور فاضل پرزہ جات کی درخواستوں کو مستردیامؤخرکردیا گیا ہے۔
اسی عرصے کے دوران میں درجنوں دیگرایکس رے مشینوں کوغربت زدہ اوردنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مصرکے ساتھ مل کرسکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئےغزہ کے ارد گرد ناکابندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اسے عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں تشویش ہے جو فوجی مقاصد کے لیے اس طرح کی مشینوں کی کمانڈ کرتے ہیں۔
وزارت صحت کے ڈائریکٹرمدحت عباس نے بتایا کہ یہ سامان غزہ کے اسپتالوں کو بین الاقوامی امدادی اور طبی اداروں کی مالی اعانت سے مہیّاکیا گیا تھا۔اس سامان کے داخلے کو روکنے کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کو طبی خدمات کی فراہمی میں تاخی ہوئی ہے۔
ان کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل کی فوج کے زیر انتظام رابطہ ایجنسی کوگیٹ نے حماس اور دیگرمزاحمتی گروپوں پرالزام عاید کیا کہ وہ دہشت گردی کے مقاصد کے لیے انسانی ہمدردی اور سویلین سطح پرسامان کی ترسیل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کوگیٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ اس طرح کے سازوسامان کے لیے درخواستوں کا الگ الگ کیس کی بنیاد پرجائزہ لیا جاتا ہے۔مدحت عباس نے طبّی سامان کے دُہرے استعمال کے بارے میں اسرائیلی دعوے کو جھوٹ قراردے کر مسترد کردیا ہے۔
غزہ شہرکے شفااسپتال میں 51 سالہ نلت زینو نے بتایا کہ وہ گذشتہ 45 دن سے اپنے گردوں کا ایکسرے کروانے کا انتظارکررہی ہیں۔ ڈاکٹروں نے اس تاخیر کا ذمہ دار سازوسامان کی روک تھام کوقراردیا ہے۔
چاربچّوں کی ماں اسپتال کےایکسرے یونٹ کے باہرموجود تھیں۔انھوں بتایا کہ’’جیسے میں جو درد محسوس کررہی ہوں وہی کافی نہیں تھا،اب انتظار تشدد کی ایک اور شکل ہے‘‘۔
حماس نے 2006 میں غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔اس کے ردعمل میں اسرائیل نے اس فلسطینی علاقے کی زمینی ، بحری اور فضائی ناکابندی کردی تھی۔اس کے نتیجے میں آنے والے سامان کی مقدارکو محدود کردیا گیا جس سے غزہ کی معیشت اور صحت کی دیکھ بھال کا نظام مفلوج ہوکررہ گیا ہے۔شہر کےاسپتال تب سے بستروں اور طبی سازوسامان کی دائمی قلّت کا شکار ہیں۔