'نیوم شہر' سعودی شناخت کو جدت اور ٹیکنالوجی سے جوڑ دے گا: ریان فائز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیوم شہر کی تکمیل کے بعد سعودی عرب کی تیل برآمد کرنے والے ملک کی شہرت سے جدت اور ٹیکنالوجی کی پہچان والا ملک کہلائے گا۔ اس امر کا اظہار 'نیوم ' کے ڈپٹی چیف ایگیزیکٹو آفیسر ریان فائز نے عالمی اقتصادی فورم کے ایک پینل کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا ہے۔

انہوں نے کہا 'نیوم سٹی' کا آئیڈیا صرف ایک رئیل اسٹیٹ بزنس کا منصوبہ نہیں ہے ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑا معاشی منصوبہ ہے۔

اس نئے شہر کی تعمیرات بیلجیم کے کل رقبے کے پانچ فیصد تک محدود ہوں گی جبکہ اس کا 95 فیصد حصہ قدرتی مناظر اور ماحول پر محیط ہو گا۔ یہ رہائش کے موجودہ تصور کو بدل کر رکھ دے گا ۔ کاروبار کی نئی جہتیں سامنے لائے گا اور فطرت سے تعلق کی پھر سے بنیاد بنے گا۔

عام طور پر شہر میں ایک بڑا پارک ہوتا ہے، لیکن وہاں بھی ہر ایک کی رسائی نہیں ہوتی۔ نیوم ایک بہت بڑے پارک کے اندر ایک شہر کا تصور ہے۔ اب تک اس میں کام کرنے والے 2500 ہنر مند آباد ہیں لیکن 2030 میں اس کی آبادی دس لاکھ لوگوں تک پھیل چکی ہو گی۔ جو دنیا کے بہترین ہنر مندی کا نمونہ ہو گی۔

یہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت ویژن 2030 کا نتیجہ ہے۔ ہم آنے والے برسوں میں اس منصوبے کو 14 اکنمک زونز میں دیکھتے ہیں۔ ان 14 زونز میں سے پہلا 2027 تک مکمل ہوگا۔ یہ منصوبہ 2045 تک کا احاطہ کریں گے۔

' نیوم شہر ' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نظمی النصر نے اس سے پہلے ' العربیہ ' کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ نیوم کا 20 فیصد انفراسٹرکچر مکمل ہو چکا ہے اور کام تیزی سے جاری ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size