جسمانی طورپرجڑواں عراقی بچوں کی کامیاب آپریشن کے بعد حالت بہتر: ڈاکٹر الربیعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے جنرل سپر وائز اور شاہی دربار کے مشیر ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے بتایا ہے کہ بارہ دن قبل مملکت کے ایک اسپتال میں جسمانی طورپر جڑے دو عراقی بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد ان کی حالت بہتر ہے اوربچے تیزی کے ساتھ روبہ صحت ہیں۔

ڈاکٹرعبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے بتایا کہ عراق کے سیامی جڑواں بچوں کی علیحدگی کا آپریشن ان کی نگرانی میں ایک ماہر میڈیکل ٹیم نے کیا جسے شاہ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرن اسپتال میں انجام دیا گیا۔ آپریشن میں 12 سال کے پیدائشی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے دوعراقی بچوں عمر اور علی کو سرجری کے ذریعے الگ کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر الربیعہ نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جڑواں بچوں کی تمام اہم علامات نارمل ہوگئیں ہیں اور جڑواں بچوں نے ایک ٹیوب کے ذریعے دودھ پینا شروع کردیا ہے۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ معمول کے مطابق بات چیت کرنے لگے ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی تشویش نہیں پائی جا رہی ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جلد کے نیچے کی رطوبتوں کو دور کرنے کے لیے جو ٹیوبز رکھی گئی تھیں اور وہ ٹیوبز جوبچے "علی" سے صفرا نکالنے کے لیے رکھی گئی تھیں اگلے ہفتے کے دوران اٹھا لی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے 4 سے 6 ہفتے اسپتال میں رہیں گے اور صحت یاب ہونے کے بعد انہیں بھیج دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں