فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی اتھارٹی کا اسرائیل سے سکیورٹی تعاون ختم کرنےکااعلان،امریکا کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی اتھارٹی نے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلیش پوائنٹ قصبے جنین میں صہیونی فوج کے مہلک جارحانہ حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون ختم کردیا ہے جبکہ امریکا نے فلسطینیوں کے اس فیصلے پرتنقید کی ہے۔

غربِ اردن کے شہر رام اللہ میں جمعرات کو فلسطینی قیادت کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمارے عوام کے خلاف باربار کی جانے والی جارحیت اور سلامتی سمیت دستخط شدہ معاہدوں کو کمزور کرنے کی کارروائیوں کی روشنی میں، ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی قابض حکومت کے ساتھ سکیورٹی رابطہ کاری اب موجود نہیں رہی ہے‘‘۔

دریں اثناء سعودی عرب سمیت مسلم ممالک نے جنین پر اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صہیونی فوج کی جنین میں جارحانہ کارروائی میں نو فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے،اسرائیلی اشتعال انگیزی اور جارحیت کو روکنے اورفلسطینی شہریوں کو ضروری تحفظ مہیا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

امریکا کی فلسطینی اقدام پر تنقید

امریکا کی مشرق اوسط کے لیے اعلیٰ سفارت کار نے اسرائیلی فورسز کی چھاپامارکارروائی کے ردعمل میں فلسطین کے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون منقطع کرنے کے فیصلے پرتنقید کی ہے۔

نائب وزیر خارجہ برائے مشرق اوسط باربرا لیف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’ہمیں نہیں لگتا کہ اس وقت یہ ایک درست اقدام ہے‘‘۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن کے قاہرہ، رام اللہ اور یروشلم کے دورے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیف نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کے قتلِ عام کو ’افسوس ناک‘ قرار دیا۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنین میں ایک ایسے گروپ کے ارکان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپامارکارروائیاں کررہا ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوّث ہیں۔

لیف نے کہا:’’سکیورٹی کے شعبے میں تعاون سے پیچھے ہٹنا تو دور کی بات ہے،ہمارا ماننا ہے کہ یہ بہت اہم ہے کہ فریقین سکیورٹی کوآرڈینیشن کو برقرار رکھیں اور اگر کچھ بھی ہو تواسے مزید مضبوط کریں‘‘۔

لیف نے فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ وزیرخارجہ بلنکن کا اختتام ہفتہ کا دورہ ان کے لیے بائیڈن انتظامیہ کے دوریاستی حل کے عزم پر زور دینے کا ایک موقع ہوگا۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن اگلے ہفتے اسرائیل، مغربی کنارے اور مصر کا دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی فوج کے تازہ حملے کے بعد تشدد کے خاتمے پر زوردیں گے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں گذشتہ کئی ماہ سے کشیدگی اورتشدد میں اضافہ ہورہا ہے اور خدشہ ظاہرکیاجارہا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں نئی اسرائیلی حکومت کے بعد صورت حال ایک بار پھر قابو سے باہر ہوسکتی ہے اور اسے حالیہ تاریخ میں انتہائی دائیں بازوکی کابینہ میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں