اسرائیلی ذرائع نے جمعرات کے روز ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اگر ایران شام میں شدید زلزلے کے بعد انسانی امداد کی آڑ میں اپنے علاقائی پراکسیوں کو ہتھیار بھیج رہا ہے تو اسرائیلی فوج اس پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔
نام ظاہر نہ کرنے والے اسرائٍیلی عہدیدار نے بتایا کہ ایسی معلومات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران شام کی المناک صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ اسرائیل اسے قبول نہیں کرے گا اور یہ کہ یہ عمل ہماری طرف سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سخت فوجی ردعمل کا باعث بنے گا۔
واضح رہے پیر کو جنوب مشرقی ترکیہ میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد سے امداد لے جانے والے کئی ایرانی کارگو طیارے شام میں اتر چکے ہیں۔ اسماعیل غنی، جو اسلامی انقلابی گارڈ کی کور ’’قدس فورس‘‘ کے سربراہ ہیں بدھ کے روز حلب میں ایرانی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
خیال رہے ہفتہ کی صبح تک ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 25000 سے بڑھ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں بے ضرر مصنوعات کے بھیس میں ایرانی اسلحہ کی ترسیل کا الزام لگا کر اسرائیل نے شام میں کئی فضائی حملے کئے ہیں۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا تھا کہ اسرائیل زلزلے کے بعد شام کو امداد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں خیمے، ادویات اور اطلاعات کے مطابق کمبل شامل ہیں۔ تاہم شامی ذرائع نے اسرائیل کی طرف سے مدد کی درخواست کی سختی سے تردید کردی تھی۔
اسرائیل شام کو دشمن ریاست سمجھتا ہے اور ان کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم شام کی خونریز جنگ کے دوران گولان کی پہاڑیوں میں سرحد تک پہنچنے والے شامی شہریوں کی مدد کے لیے اسرائیلی فوج نے انسانی بنیادوں پر آپریشن کیا تھا۔