سعودی عرب: سوشل میڈیا کے ذریعہ منشیات فروخت کرنیوالا گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جمعہ کو جنرل ڈائریکٹوریٹ فار نارکوٹکس کنٹرول نے سعودی دارالحکومت ریاض میں سوشل میڈیا کے ذریعے نشہ آور اشیاء کی تشہیر اور نمائش کرنے پر ایک شخص کی گرفتاری کا اعلان کردیا۔ ڈائریکٹوریٹ نے بتایا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، اس کے خلاف باقاعدہ کارروائی کرکے اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔

سعودی عرب میں منشیات سے متعلق جرائم کی سزائیں

مملکت سعودی عرب میں منشیات کی سمگلنگ سے نمٹنے کا نظام ’’ 7 شوال 1407‘‘ کو جاری شاہی فرمان ’’بی 966 فور‘‘ کے تحت نا فذ ہے۔

سمگلر

سعودی حکومت نے منشیات کے جرائم پر سب سے سخت سزا کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ یہ سزا ئے موت ہے۔ میں میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والے کو پھانسی تجویز کی گئی ہے۔ یہ سزائیں صرف سمگلر تک محدود نہیں بلکہ منشیات کے جرائم ملوث قوم کے تمام افراد کے لیے سخت سزائیں نافذ ہیں۔ اس نظام کے تحت بیرون ملک سے منشیات درآمد کرنے والے کو سمگلر اور باہر سے منشیات حاصل کرنے والے کو پروموٹرز کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔

پروموٹر

یہ نظام پہلی مرتبہ منشیات فروش اور منشیات کی سمگلنگ یا فروغ کےجرم میں سزا پاکر دوبارہ جرم کرنے والے کے درمیان فرق کرتا ہے۔ پہلی صورت میں سزا قید، کوڑے، یا مالی جرمانہ یا یہ تمام سزائیں ہیں۔ تاہم جو سزا پاکر بھی پھر یہ جرم کر ے گا اسے مزید سخت سزا دی جائے گی۔ اس صورت میں سزائے موت بھی د ی جاسکتی ہے۔

استعمال کرنے والا

منشیات استعمال کرنے والے کو دو سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔ اگر وہ غیر ملکی ہو تو اسے ملک سے نکال دیا جائے گا اور اس کے خلاف عوامی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ جو بھی اپنے آپ کو علاج کے لیے پیش کرے تو اسے نشے کے عادی افراد کا علاج کرنے والے ہسپتال میں رکھا جائے۔ سعودی نظام نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سفارشات پر عمل کیا ہے۔

منشیات مقدمات کے ملزم طلبہ کے ساتھ خصوصی سلوک

اس نظام نے طلبہ کو متعین سزاؤں کے اطلاق سے باہر رکھا۔ صرف انہیں مناسب طریقے سے نظم و ضبط کا پابند بنایا ہے۔ بعد میں ان کی نگرانی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ وہ درست حالت میں آسکیں ۔ اس صورت میں والدین سے ان کی اچھی پرورش کرنے کا عہد بھی لیا جائے گا۔ اس استثنی کو حاصل کرنے والے افراد کو چند شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے۔ ان شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ منشیات استعمال کرنے والے سٹوڈنٹ کی عمر بیس سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔طالب علم کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔ طالب علم کو منشیات فروش یا سمگلر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا جرم صرف نشہ آور گولیاں لینا ہونا چاہیے ۔ اس کے پاس منشیات کی سمگلنگ، پروموشن، یا گولیوں کے استعمال کی نظیریں نہیں ہونی چاہئیں۔ اس کے کسی اخلاقی جرائم میں ایسی کوئی نظیر نہیں ہونی چاہیے جن کی سزاؤں نے اسے روکا نہ ہو۔ اس پر عائد الزام کو کسی اور اخلاقی جرم سے نہ جوڑا گیا ہو۔ اس پر عائد الزام کسی ٹریفک حادثہ سے متعلق نہ ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی گرفتاری پر

مزاحمت بھی نہ کی ہو۔ واضح رہے عام طور پر طالب علم پر عائد قید کی سزا تین ماہ سے زیادہ نہیں ہوتی یا اسے پچاس کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں