اسرائیل کا لبنانی فوج کی گاڑی پر حملہ... افسر سمیت 2 فوجی اہل کار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران ایک اسرائیلی ڈرون نے لبنانی فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے آج ہفتے کے روز اطلاع دی کہ ایک ڈرون نے الخردلی-نبطیہ روڈ پر فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وسام صبرا نامی بریگیڈیئر اور ان کے ہمراہ موجود ایک اور فوجی جاں بحق ہو گئے۔

دوسری جانب لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ "لبنان اور اس کے عوام پر جاری اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں الخردلی-نبطیہ روڈ پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنانے والے وحشیانہ اسرائیلی حملے میں ایک افسر سمیت کئی فوجی جاں بحق ہوئے ہیں۔"

جھڑپیں جاری

یہ ہدفی حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گذشتہ مدت کے دوران جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے تھم نہیں سکے، حالانکہ بدھ کو واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کے چار دور کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کے معاہدے کی تجویز پر اتفاق کا اعلان کیا تھا۔

ادھر حزب اللہ نے اسرائیلی بم باری کا جواب دیتے ہوئے "شمالی اسرائیل" کی جانب میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے اور جنوبی لبنان کے قصبوں میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔

حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر دونوں نے واشنگٹن کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی معاہدے پر تنقید کی ہے۔ زامیر نے اس معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ اسرائیلی فوج "کثیر الجہتی تیاری کی حالت میں ہے"، جبکہ اس وقت اس کی تمام تر توجہ شمالی سرحد پر مرکوز ہے۔

حزب اللہ نے اس معاہدے کو شرم ناک قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی میں تمام لبنانی علاقے شامل ہونے چاہئیں اور یہ "شمالی اسرائیل" پر حملے روکنے اور جنوبی لبنان سے تنظیم کے ارکان کے انخلا سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شام اس یقین کا اظہار کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لبنان امن کا مستحق ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کو اعلان کردہ معاہدے کے تحت حزب اللہ کو جنوبی لبنان سے انخلا کرنا چاہیے اور "شمالی اسرائیل" پر اپنے حملے روکنے چاہئیں، جبکہ لبنانی فوج کو پہلے مرحلے میں کچھ "تجرباتی" علاقوں میں تعینات ہونا ہے اور اس کے بعد اسرائیلی افواج کو کچھ جنوبی قصبوں سے پیچھے ہٹنا ہے۔ معاہدے میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اس انخلا کے بدلے میں اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ نہ بنانے کا پابند ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک فی الحال جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے گا، جب تک کہ حزب اللہ "شمالی اسرائیل" پر تمام حملے نہ روک دے اور دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقے سے اپنے جنگجوؤں کو واپس نہ بلا لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں