امریکہ میں اکیڈمک ایکسیلنس ایوارڈ جیتنے والی سعودی طالبہ کا انٹرویو

رکاوٹیں کامیابی کے لیے عظیم محرک اور تجربات کی تجدید کا موقع ہیں: امیرہ السلمی، ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی طالبہ نے سکالرشپ کی مدت کے دوران اپنی صلاحیتوں اور امتیازات کو پروان چڑھایا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فلوریڈا ٹیک یونیورسٹی میں اکیڈمک ایکسیلنس ایوارڈ جیت لیا۔ یہ وہ ایوارڈ ہے جو ہر سال ایسے شاندار اور فعال طلبہ کو دیا جاتا ہے جنہوں نے تعلیمی اور سماجی خدمات انجام دی ہوتی ہیں۔ سعودی طالبہ نے اپنی پڑھائی کے دوران نئے سعودی طلبہ کے لیے ایک تحقیقی رہنما کے طور پر عربی میں ایک دستاویز تیار کی تھی۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں سعودی طالبہ ’’امیرہ السلمی‘‘ نے بتایا کہ میں نے فلوریڈا ٹیک یونیورسٹی میں ایکسی لینس ایوارڈ جیتا۔ یہ ایوارڈ ہر سال سکریننگ اور نامزدگی کے بعد مختلف شعبوں میں یونیورسٹی کے ممتاز طلبہ کو دیا جاتا ہے۔ ایوارڈ ان کی تعلیمی کامیابیوں اور دیگر اہم عوامل کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ ان عوامل میں رضاکارانہ، کمیونٹی اور ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ایوارڈ حاصل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ میں اس ایوارڈ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ تقاضے تعلیمی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں کمیونٹی اور ثقافتی سرگرمیوں میں موثر شراکت پر مبنی ہے۔ میں نے سعودی کلب کی تمام ایسی سرگرمیوں میں کام کیا جو ہمارے وطن عزیز کی ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کی وجہ سے مجھے یونیورسٹی کے ملازمین اور طلبہ میں پذیرائی ملی۔

امیرہ السلمی نے بتایا کہ انہوں نے بہت سے سرگرمیوں کا انعقاد کیا ۔ ان سرگرمیوں میں نئے طلبہ سے واقفیت کے لیے ملاقات ، سعودی طلباء کے لیے معاون دستاویزات کی تیاری ، عربی زبان کا عالمی دن منانا ، سعودی قومی دن منانا ، یوم تاسیس منانا ، سعودی فارغ التحصیل طلبہ کا اعزاز کرنا، 2022 کے ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے خلاف سعودی قومی ٹیم کی تاریخی فتح کا جشن منانا ، عرب ٹائیگر انیشیٹو، نیوم اقدام اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ طلبہ کی مدد کرنے والی سرگرمیاں اس کے علاوہ تھیں۔

ایوارڈ جیتنے اور فتح کے جذبات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امیرہ السلمی نے کہا میں یقیناً بہت خوش ہوں اور میں اللہ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے یہ کامیابی عطا کی۔ یہ ایوارڈ مجھے مزید ایسی کامیابیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔

السلمی نے مزید کہا کہ میری نظر میں رکاوٹیں کامیابی کے لیے ایک عظیم ترغیب ہیں اور تجربات کی تجدید کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ رکاوٹیں ادراک کے افق کو وسعت دینے اور حل تلاش کرنے میں مدد دیتی ہیں ۔ سب سے زیادہ۔ مجھے جن نمایاں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا وہ سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں تعلیمی کامیابیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش تھی۔ اس کے لیے مجھے کافی وقت اور بہت زیادہ محنت درکار ہوتی تھی ۔

سوانح حیات اور کیریئر

انہوں نے بتایا کہ میں ابہا شہر کی کنگ خالد یونیورسٹی میں بطور لیکچرر کام کرتی ہوں۔ میں نے ام القریٰ یونیورسٹی سے 2015 میں کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری امتیازی اور فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ حاصل کی۔ 2017 میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے تعلیم کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے امیرہ السلمی نے کہا میں نے 2020 میں فلوریڈا ٹیک یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اس وقت فلوریڈا ٹیک یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔ میں تعلیمی سال 2022 کے لیے سعودی کلب کی صدر بھی ہوں۔ اپنے انٹرویو کے اختتام میں انہوں نے کہا میں اپنی تمام نسلوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک باعزت اور شاندار رول ماڈل بننا چاہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں