مغربی کنارے میں تشدد سے خطے کا استحکام متاثر ہوگا: شاہ عبداللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کے شاہ عبد اللہ نے اتوار کو امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات اور بات چیت کے دوران بتایا کہ مغربی کنارے میں تشدد کی کاروائیوں میں اضافے سے خطے کے استحکام کو خطرہ ہے۔ انہوں نے شام کی سرحد کے ساتھ بڑھتی ہوئی منشیات کی جنگ میں امریکہ سے مزید تعاون کی درخواست بھی کی۔

آسٹن اپنے مشرق وسطی کے دورے کے آغاز پر اردن پہنچے تھے جس کا مقصد ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر اپنے بنیادی علاقائی اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ وہ اس کے بعد اسرائیل اور مصر بھی جائیں گے۔

امریکی وزیر دفاع نے روانگی سے قبل ٹویٹر پیغام میں لکھا تھا کہ اس دورے کے دوران وہ کلیدی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے ، "علاقائی استحکام کے لئے امریکی عزم کی اعادہ کریں گے اور امریکہ کے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ مفادات کو آگے بڑھائیں گے۔"

شاہ عبد اللہ ، جنہوں نے گذشتہ ہفتے فلسطین تنازعے کے حل کے لیے اعلی امریکی اور مصری عہدیداروں کی عقبہ میں منعقد ہونے والے پہلے اجلاس کے دوران میزبانی کی تھی ، کہا کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر عرب اسرائیل امن کے لیے ایک جامع معاہدے کے قیام کے لیے کوششوں کو تیز کرنا ہوگا۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق اسرائیل کے دورے کے دوران آسٹن اسلامی اور یہودی مذہبی تعطیلات سے قبل تناؤ کو کم کرنے کے لئے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

محکمہ دفاع نے اس دورے سے پہلے کہا کہ بات چیت میں ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر کثیر جہتی سیکیورٹی تعاون کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جس میں فضائی اور میزائل دفاع بھی شامل ہیں۔

پینٹاگون کے ایک اہم دفاعی عہدیدار کے حوالے سے ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ "ان خطرات میں ایران کا ہتھیار حاصل کرنا، پر تشدد پراکسی گروہوں کی تربیت اور مالی معاونت ، سمندری جارحیت ، سائبر دھمکیاں ، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور ڈرون حملے شامل ہیں۔"

اردن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ شاہ عبداللہ نے جنوبی شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر خدشات کا اظہار کیا جن کی وجہ سے اردن کی سرحدوں کے ذریعے خلیجی مارکیٹ میں منشیات کی اسمگلنگ کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

اردن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عمان سرحد پر سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لئے مزید امریکی فوجی امداد چاہتا ہے ، جہاں واشنگٹن نے کئی دہائیوں سے جاری تنازعہ کے آغاز کے بعد سے اب تک سرحدی چوکیاں قائم کرنے کے لئے تقریبا $ 1 بلین ڈالر کی امداد دی ہے۔ واضح رہے کہ اردن کی شام کے ساتھ تقریبا 375 کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں