کتے کے کاٹنے سے بچے کی موت کے بعد اردن میں صدمے کی کیفیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردن کے دارالحکومت عمان کے مشرق میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 10 سالہ بچے یحییٰ النبالی کی موت کے بعد اردن بھر میں غم و غصے اور صدمے کی کیفیت ہے۔

مقتول بچے کے اہل خانہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ یحیی نامی بچے کو تقریباً 30 روز قبل دارالحکومت عمان کے علاقے ام النوارہ میں کتے نے کاٹ لیا تھا، جسے سول ڈیفنس نے البشیراسپتال منتقل کیا تھا۔ اسپتال میں بچے کا علاج کتے کے زہرکے اثرات کم کرنے والے اینٹی بائیوٹک سے کیا گیا۔تاہم کُتے کے کاٹنے کے بعد بچے کو گردن توڑ بخار ہوا اور ایک ماہ علیل رہنے کے بعد بچہ دم توڑ گیا۔

بچے کی موت پر عمان میں صدمے کی کیفیت ہے اور سوشل میڈٰیا پربھی لوگ بچے کی موت پر سوگ کا اظہار کررہےہیں۔

کئی مہینوں سے اردن میں سماجی رابطوں کی سائٹس رہائشی محلوں میں آوارہ کتوں کے مسائل کے حوالے سے مشتعل ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حل طلب کر رہے ہیں جسے اردن کی میونسپلٹیز حل نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے سائنسی حل بہت مہنگے ہیں۔

اردن کے نائب وزیراعظم اور مقامی انتظامیہ کے وزیر توفیق کریشان کو بیانات میں انہوں نے تصدیق کی کہ اردن میں آوارہ کتوں کا مسئلہ انتظامی گورنرز اور میئرز کے ساتھ مل کر ختم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم اور مقامی انتظامیہ کے وزیر کی حیثیت سے ان کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک عملی منصوبہ تیار کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں