راکٹ فائر ہونے کے باوجود اسرائیل اور غزہ کے فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ بندی برقرار

اسرائیلی فوج نے اتوار کو راکٹ فائر کے جواب میں غزہ کی پٹی میں حماس کے دو ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان پانچ روز کے تصادم کے بعد اتوار کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔ پانچ روزہ جنگ میں تحریک اسلامی جہاد کے 6 رہنماؤں سمیت 33 فلسطینی جاں بحق اور اسرائیل کے دو افراد زخمی ہوئے۔

جنگ بندی کے ابتدائی امتحان میں ہی فلسطینی گروپوں نے اتوار کی سہ پہر جنوبی اسرائیل پر ایک راکٹ فائر کردیا۔ فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ راکٹ فنی خرابی کی وجہ سے فائر ہوگیا کیونکہ فلسطینی افراد راکٹ کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ میزائل جنوبی اسرائیل کے ایک کھلے علاقے میں گرا۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے اسرائیلی علاقے پر راکٹ فائر کے جواب میں غزہ کی پٹی میں حماس کے دو ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

واضح رہے منگل کے روز 9 مئی کو غزہ سے راکٹ فائر کیے جانے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کردی تھی۔ اس خوفناک بمباری میں پہلے ہی روز تحریک اسلامی جہاد کے تین رہنما جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان ہلاکتوں سے فلسطینی گروپوں میں بھی اشتعال پھیل گیا اور جنگ کے ہمہ گیر رخ اختیار کرنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

دوسری جانب مصر نے مداخلت کرکے تصادم اور لڑائی کو ختم کرنے کے لیے ثالثی شروع کردی۔ ہفتہ اور اتوار یعنی 13 اور 14 مئی کی درمیانی شب سے جنگ بندی معاہدہ پر عمل شروع ہوگیا۔ اس طرح پانچ روزہ جنگ اختیام کو پہنچی ۔ اس جنگ بندی سے اگرچہ غزہ کے 20 لاکھ باشندوں اور لاکھوں اسرائیلیوں کو راحت اور سکون میسر آگیا ہے تاہم یہ معاہدے فلسطینیوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں بہت کم فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں