عراق میں ایک نجی تعلیمی ادارے کے استاد کی جانب سے ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ توہین آمیز برتاؤ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پرعوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تدریس کے مقدس پیشے سے منسلک کسی شخص کو طلبا اورطالبات کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی ایسا نا مناسب رویہ اپناتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
دوسری طرف وزیر تعلیم ابراہیم نامس الجبوری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری انکوائری کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبا کے ساتھ توہین آمیز سلوک ناقابل قبول ہے اور اس میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
هذا الكائن اللزج الي أقل ما يقال عنه تافه، معلم في احدى المدارس يقوم بشتم الطلبة ويهينهم تم رصد هذا الفيديو من قبل أحدى الطالبات لتوضيح حجم الانحطاط الأخلاقي للمعلم الذي لا يعلم أن مهنة التعليم هي رسالة أخلاقية قبل كل شي فهو يعود الى وزارة "التربية" قبل التعليم
— عُلا عاصي (@aulaassi4) May 16, 2023
أدعوا الجميع الى… pic.twitter.com/wfQi5OUDmp
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر عراق کے ایک نجی تعلیمی ادارے کے کیمسٹری کے استاد کی طرف سے ایک طالبہ کی مبینہ توہین پرمبنی ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔
مڈل اسکول کے چھٹی جماعت کے کیمسٹری کے استاد نے نجی تدریسی اداروں میں مرد اور خواتین کے طالب علموں کی توہین کی۔
وزیر تعلیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "کسی کو بھی طلباء کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خواہ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں۔ اساتذہ کی طرف سے تدریسی پیشے کے تقدس کو قائم رکھنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔