العربیہ ایکسکلوسیو

’’جدہ سربراہی اجلاس میں شام کی عرب لیگ میں مکمل واپسی پر غور کیا جائے گا‘‘

شام کی عرب لیگ میں ممکنہ واپسی بحران کو حل کرنے کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کی عرب کوشش ہے: ابو الغیط کا ‘‘ العربیہ’’ کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ شام کو عرب فورم میں واپس لانے سے متعلق ممکنہ فیصلے کا مطلب شام کے تمام عربوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی نہیں۔ شام کے ساتھ انفرادی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہر عرب ملک پر منحصر ہے۔

‘‘العربیہ’’ اور ‘‘الحدث’’ نیوز چینلز کے ساتھ جمعرات کو ایک خصوصی انٹرویو میں سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دمشق کی عرب ریاستوں کی لیگ میں واپسی کا اقدام شام کے بحران کے حل کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کی عرب کوشش ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عرب ملکوں کو شام کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہے۔

ابو الغیط نے مزید کہا کہ دمشق کی عرب لیگ میں ممکنہ واپسی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شام کے مسئلے کا کوئی حل نکل آیا ہے اور یہ کہ شام نے قبول کر لیا ہے کہ اس کی عرب لیگ میں واپسی شام کے مسئلہ کے حل کے تناظر میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عرب ملکوں نے شامی حکومت کو ماضی میں بھی کئی بحران کے حل کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب عالمی واقعات نے شام کی عرب لیگ میں واپسی سے متعلق متوقع فیصلے کو مہمیز دی ہے۔

ابو الغیط نے انکشاف کیا کہ عرب لیگ نے گذشتہ برسوں کے دوران بھی شام کے ساتھ بات چیت بند نہیں کی اور صحت سے متعلق کرونا جیسے بحرانوں کے دوران شام کو طبی امداد پہنچانے میں سہولت فراہم کی تھی۔ فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ابو الغیط نے کسی بھی چیز سے پہلے اپنے گھر میں فلسطینی مفاہمت کی اہمیت سب سے مقدم ہے۔

سوڈان میں جنگ کے متعلق ابو الغیط نے کہا اس اہم افریقی ملک میں تمام فریقوں کو ریاستی اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوج کے علاوہ کسی بھی ملک میں کوئی دوسرا مسلح گروپ نہیں ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں