عرب سمٹ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا بشار الاسد کی عرب لیگ میں واپسی کا خیرمقدم

سعودی عرب روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے: ولی عہد محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے آج جمعہ کو شام کے صدر بشار الاسد کی عرب لیگ میں واپسی کا خیر مقدم کیا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے لیے بھی تیار ہے۔

شام کی عرب لیگ میں واپسی سے متعلق فیصلہ جنگ زدہ ملک شام کو بلاک سے معطل کیے جانے کے ایک دہائی بعد سامنے آیا ہے۔"آج، شام کے صدر بشار الاسد کی اس سربراہی اجلاس میں شرکت ہمارے لیے باعث مسرت ہے،" سعودی حکمران شہزادہ محمد نے اپنے خطاب میں کہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عرب لیگ میں واپسی شام میں قیام امن اور "استحکام" کا باعث بنے گی۔

عرب لیگ کا اجلاس آج جدہ میں جاری ہے۔ اس میں شام ، سوڈان اور فلسطین کی صورت حال کے ساتھ ساتھ روس یوکرین تنازعہ بھی زیر غور ہے۔ یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی بھی سعودی عرب کی دعوت پر شرکت کے لیے سمٹ میں موجود ہیں۔

شام میں 2011 میں بشار الاسد حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان پر تشدد تنازعہ شروع ہونے کے بعد کئی عرب ممالک خصوصاً خلیجی ممالک نے شام کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ دمشق میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے اور عرب لیگ نے شام کی رکنیت معطل کر دی تھی۔

فروری میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد عرب ملکوں نے شام کی بحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ گذشتہ دو مہینوں میں شام کے صدر بشار الاسد نے خلیجی ممالک کے دورے بھی کیے جن میں شام کی عرب لیگ میں واپسی کے امکانات پر بات چیت کی گئی تھی۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعے کو عرب لیگ کے سربراہی اجلاس سے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ سعودی عرب روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔

روس کی جانب سے گزشتہ سال یوکرین کے خلاف "خصوصی فوجی آپریشن" شروع کرنے کے بعد سے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاستوں نے غیر جانبدارانہ موقف اپنا رکھا ہے۔

ہم روس کی جانب سے یوکرینی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرانے کے لئے کوشاں ہیں: ریلمسکی
ہم روس کی جانب سے یوکرینی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرانے کے لئے کوشاں ہیں: ریلمسکی

سعودی عرب نے بار بار کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے اور پرامن حل تک پہنچنے کے لیے متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

رواں سال فروری میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کیئف کے دورے کے دوران زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔

ملاقات کے دوران، انہوں نے ایک معاہدے اور مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جس کے تحت یوکرین کو 400 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کی جانی تھی۔

گذشتہ سال، سعودی عرب نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں، مختلف ملکوں کے 10 جنگی قیدیوں کی رہائی میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی سے شام کا بحران ختم ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں