تصاویر: حزب اللہ کی جنگی مشقیں، اسرائیل کے مقابلے کی تیاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اتوار کے روز اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے جنوب میں اپنے ایک تربیتی مقام پر میڈیا کو غیر معمولی دعوت دی، جہاں اس کے جنگجوؤں نے فوجی مشقیں کی ہیں۔

ان مشقوں میں نقاب پوش جنگجوؤں نے جلتے ہوئے الاؤ میں چھلانگ لگائی، موٹر سائیکلوں کی نشست سے فائرنگ کی اور بالائی پہاڑیوں اور لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر ایک دیوار پر نصب اسرائیلی جھنڈے کو دھماکے سے اڑا دیا۔

یہ مشق 25 مئی 2000ء کو جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے سالانہ جشن "یوم آزادی" سے پہلے اور غزہ میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں حالیہ اضافے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ غزہ کی حکمران فلسطینی جماعت حماس اور حزب اللہ کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں۔

اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کی اس فوجی مشق پر تبصرے سے انکارکیا ہے۔حزب اللہ کے سینیرعہدہ دار ہاشم صفی الدین نے ایک تقریر میں کہا کہ اس جنگی مشق کا مقصد اسرائیل کی طرف سے کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری مکمل تیاری کی تصدیق کرنا ہے۔

سرحد کے دوسری جانب اسرائیلی افواج نے شاذہی صحافیوں کو حزب اللہ کے ساتھ جنگی مشقیں دیکھنے کی دعوت بھی دی ہے مگردونوں فریقوں کے عہدے دار اکثر عوامی بیانات میں تنازعات کے لیے اپنی تیاری کی طرف اشارہ کرتے رہتے ہیں۔

تاہم، 2006ء میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک ماہ تک جاری رہنے والی خونریز اور بے نتیجہ جنگ کے بعد سے یہ تنازع کافی حد تک منجمد ہو چکا ہے۔البتہ اسرائیل باقاعدگی سے ہمسایہ ملک شام میں حزب اللہ اور اس کے حامی ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہتاہے۔

لبنان میں اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ کے علاوہ مسلح فلسطینی گروہوں نے 2006 کے بعد سے وقفے وقفے سے حملوں کا تبادلہ کیا ہے ، لیکن ان حملوں میں دونوں طرف سے بہت کم جانی نقصان ہوا ہے اور انھوں نے محدود حملوں کو کسی خونریز لڑائی میں تبدیل کرنے سے بڑی حد تک گریز کیا ہے۔

حال ہی میں،اسرائیل نے گذشتہ ماہ جنوبی لبنان پر اس وقت غیر معمولی حملے کیے تھے جب عسکریت پسندوں نے وہاں سے اسرائیل پر کوئی تین درجن راکٹ فائر کیے تھے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے اور کچھ املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حماس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جسے اس نے اس راکٹ حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ حزب اللہ کے رہ نما حسن نصراللہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں صرف 'کیلے کے باغات' اور آب پاشی کے ایک چینل کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

صفی الدین نے اپنی تقریر میں حزب اللہ کے پاس ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والے گائیڈڈ میزائلوں کی نشان دہی کی ہے جو وہاں نمائش میں تو موجود نہیں تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل انھیں ’بعد میں‘ دیکھے گا۔

لبنانی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور دفاعی تجزیہ کار الیاس فرحت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ’’طاقت کا یہ علامتی مظاہرہ‘‘غزہ میں حالیہ کشیدگی کے جواب میں معلوم ہوتا ہے۔ یہ جمعرات کو مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں ہزاروں یہودی قوم پرستوں کے مظاہرے کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ان میں سے بعض نے 'یوم یروشلم' کے موقع پر 'عرب مردہ باد' اور دیگر نسل پرستانہ نعرے لگائے تھے۔ یہ دن 56 سال قبل اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس پر قبضے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

بیروت میں قائم کارنیگی مڈل ایسٹ سنٹر کے سینیر فیلو اورحزب اللہ پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار مہند الحاج علی نے کہا کہ ماضی میں جب اسرائیل فلسطین تنازع میں اضافہ ہوتا تھا تو لبنانی مسلح گروہ کبھی کبھار راکٹ فائر کرتا تھا یا لبنان میں فلسطینی دھڑے کو ایسا کرنے کی اجازت دیتا تھا۔ تاہم یہ فوجی مشق طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ایک کم خطرے کا طریقہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ حزب اللہ اور ایران کے اتحادی شام کی عرب لیگ میں واپسی کے پیش نظر میں لبنانی ملیشیا عرب مصالحت سے توجہ ہٹانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ سرحد پر تصادم نہیں چاہتی تھی۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ فوجی مشقیں ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ (حزب اللہ کے جنگجو) کتنے مضبوط ہیں اور وہ اسرائیلیوں کو ایک پیغام دے رہی ہیں، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار، وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں