ایران جوہری معاہدہ

ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف فوجی کارروائی ہوسکتی ہے:اسرائیلی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے قومی سلامتی کے مشیر نے منگل کے روز ایران کے خلاف 'کارروائی' کا امکان ظاہرکیا ہے مگر ایران کی نئی زیرزمین جوہری تنصیب کی کھدائی سے پیدا ہونے والے کسی بھی فوری خطرے کو خارج از امکان قراردیا ہے۔

عالمی طاقتوں کی ایران پر یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں پر نئی پابندیوں اور بم بنانے کی صلاحیت رکھنے والے دیگر منصوبوں پر مذاکرات کی کوششیں اب تک بے نتیجہ رہی ہیں، جس کی وجہ سے اسرائیل ایک طویل عرصے سے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر سفارت کاری کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا تو وہ طاقت کا سہارا لے گا۔

اسرائیل کی مسلح افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالیوی نے ایک سکیورٹی کانفرنس میں تقریر میں کہا کہ ’’ایران نے یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت میں پہلے سے کہیں زیادہ ترقی کی ہے،اب افق پر منفی پیش رفت ہو رہی ہے اور یہ (فوجی) کارروائی کا باعث بن سکتی ہے‘‘۔

انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیش رفت کیا ہوسکتی ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ کیا کارروائی کی جاسکتی ہے اور کس کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔

حالیوی نے ہرزلیہ میں بین الاقوامی سلامتی فورم سے خطاب میں اسرائیل کے اتحادی امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہمارے پاس صلاحیتیں ہیں اور دوسروں کے پاس بھی صلاحیتیں ہیں‘‘۔

ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا اسرائیلی فوج ایران کی جوہری تنصیبات کو دیرپا نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے جو دور دراز، منتشر اور دفاعی ہیں۔ ایران نے جوہری بم کی تیاری سے انکار کیا ہے اور کسی بھی حملے کا تباہ کن بدلہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔

یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل ایران کی سرحدوں پر واقع ممالک کو حملوں کے لیے اسپرنگ بورڈ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ چنان چہ ایران کے ہمسایہ ملک آذربائیجان نے اسرائیل کے مضبوط تعلقات کے باوجود اس خیال کو مسترد کر دیا۔

آذربائیجان کے نائب وزیر خارجہ فراز رضائیف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دوسرے ممالک کے تنازعات یا مسائل میں مداخلت سے گریز کرتے ہیں، بشمول کچھ کارروائیوں یا مہم جوئی کے لیے اپنی سرزمین دینا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے پیر کے روز خبر دی ہے کہ ایران زغرس کے پہاڑوں میں ایک نئی زیر زمین تنصیب تعمیر کر رہا ہے۔ یہ تنصیب جولائی 2020 میں ہونے والے دھماکے اور آگ کی زد میں آنے والے نطنز کے قریب یورینیم سینٹری فیوجز مینوفیکچرنگ مرکز کا متبادل ہوگی۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی حانجبی نے کانفرنس میں کہا کہ زیرزمین تنصیبات پر زمین پر کی تنصیبات کے مقابلے میں حملہ کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے، جو یقینا آسان ہے۔ لیکن اس معاملے کے بارے میں جو کہا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جس تک رسائی ممکن نہ ہو۔

ایران نے مذکورہ واقعہ کے بعد 2021 میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے کچھ سینٹری فیوجز مینوفیکچرنگ ہالز کو ’’نطنز کے قریب پہاڑی مرکز‘‘میں منتقل کرنے پر کام کر رہا ہے۔اس علاقے میں ایرانی انجینئرز طویل عرصے سے کھدائی کا کام کر رہے ہیں۔

حانجبی نے واضح طور پر اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکی دینے سے انکار کر دیا اور یہاں تک کہ اس نے یہ تجویز بھی دی کہ اس کی ذمہ داری امریکا پرعاید ہوگی کیونکہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر جی بی یو -43 / بم ہیں جو اسرائیل کے اسلحہ خانے میں نہیں ہیں۔

حانجبی نے مزید کہا:’’ کسی بھی صورت میں نطنز کے قریب زیر زمین تنصیب مکمل ہونے سے کئی سال دور ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن ایران کے ساتھ سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن اتحادیوں کو "آنکھ کے بدلے آنکھ" نظر آتی ہے اور آخری حربے کی فوجی کارروائی کے لیے ممکنہ "سرخ لکیروں" میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں