غزہ میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی مصرسے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ کے بحرانوں سے نمٹنے کے فریم ورک کے تحت فلسطینی اتھارٹی نے مصر کے ساتھ بات چیت کی، جس کا مقصد بجلی سے محروم آبادی کی تکالیف کو دور کرنا تھا۔

فلسطینی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق محمد شتیہ کی حکومت ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو بجلی کی فراہمی کی سطح کو بہتر بنانا ہے۔

بحران کا پس منظر

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے واحد پاور اسٹیشن پر بمباری کے بعد 2006 سے غزہ بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ اس وقت سے اسرائیلی حکومت نے اسٹیشن کے لیے دیکھ بھال کے آلات کے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آبادی ایسے نظام الاوقات پر رہتی ہے جو بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرتی ہے۔ اگر بہت زیادہ بجلی بھی ملے تو شہریوں کو آتھ گھنٹے روزانہ کی بجلی حاصل ہوتی ہے۔

عام طور پر غزہ کے باشندے دو ذرائع سے بجلی حاصل کرتے ہیں۔ پہلا پاور پلانٹ ہے، جس میں بجلی پیدا کرنے کے لیے چار ٹربائن نصب ہیں، لیکن اس میں صرف تین ہی ٹربائنزکام کرتی ہیں۔ ڈیزل ایندھن کی کمی کی وجہ سے جس پر یہ کام کرتا ہے اور یہ 120 میں سے 75 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ دوسرا اسرائیل کی طرف سے فراہم کردہ بجلی ہے جو غزہ سیکٹر کو 117 میگاواٹ کی صلاحیت کے ساتھ 10 فیڈر فراہم کرتا ہے۔

بہترین صورت میں غزہ میں 192 میگاواٹ بجلی دستیاب ہے جبکہ دن بھر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے غزہ کی پٹی کو باقاعدہ مہینوں میں تقریباً 450 میگاواٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرمیوں کے دوران جب بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے تو اس وقت بجلی کی کھپت 630 میگاواٹ تک بڑھ جاتی ہے۔

بجلی کے بدلے غزہ کی موجودہ تقسیم کار کمپنی اپنے صارفین کی آمدنی سے جنریشن اسٹیشن سے توانائی خریدتی ہے، جب کہ فلسطینی اتھارٹی پٹی کو بجلی کی فراہمی کے لیے اسرائیل کو ماہانہ نو ملین ڈالر ادا کرتی ہے۔

انرجی اتھارٹی کے سربراہ ظافر ملحم کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام کی طرف سے عائد کردہ قیمت پر بجلی خریدتے ہیں اور اس کے تعین میں فلسطینی فریق کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی علاقوں میں بجلی کی قیمتیں عالمی سطح کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

غزہ میں جاری بجلی کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے مصری حکومت کے ساتھ غزہ کی پٹی کی بجلی کو مصری بجلی کے گرڈ سے منسلک کرنے اور پاور پلانٹ کو ڈیزل کی بجائے قدرتی گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بات کی۔ .

فلسطینی اتھارٹی کی تجویز پرانی ہے کیونکہ مصر 2009 سے غزہ کی پٹی کو 25 میگاواٹ کی بجلی فراہم کر رہا ہے، لیکن اس نے 2017 کے آخر میں ایسا کرنا بند کر دیا اور الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے میڈیا ترجمان محمد ثابت کے مطابق مصری حکام نے فلسطینی حکومت کی درخواست پر لائنیں کاٹ دی تھیں۔

ملحم کا کہنا ہے کہ اس وقت مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان بجلی کے کنکشن کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے مصر کے ساتھ رابطے ہو رہے ہیں، کیونکہ اس سلسلے کو وسعت دینے کے لیے کام جاری ہے تاکہ پٹی کے لیے بجلی کی سب سے زیادہ مقدار سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں