اسرائیل نے رام اللہ سے 15فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا، آباد کاروں کا مسجد اقصی پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی ذرائع نے پیر کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع المغیر گاؤں سے 15 شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

فلسطینی نیوز اینڈ انفارمیشن ایجنسی (وفا) نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے گاؤں کے دو مرکزی داخلی راستوں کو بند کردیا اور شہریوں کو گاؤں داخل ہونے یا یہاں سے نکلنے سے روک دیا ہے۔ اسرائیلی فوج گاؤں کے لوگوں کو اپنے کام کے مقامات تک پہنچنے کے لیے کچی سڑکوں پر جانے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ خطرناک راستے ایسے ہیں جنہیں صرف چار پہیوں والی گاڑیوں سے ہی عبور کیا جا سکتا ہے۔

گاؤں کی کونسل کے سربراہ امین ابو علیا نے کہا کہ گاؤں کا مشرقی دروازہ مکمل طور پر بند ہے اور قابض فوج روزانہ کی بنیاد پر صبح ساڑھے چھ سے دوپہر دو بجے کے درمیان مغربی دروازے کو بھی بند کر دیتی ہے۔

اسرائیلی افواج نے گاؤں کے دو داخلی راستوں کو مسلسل 19 دنوں تک بند کیے رکھا۔ پھر جمعرات کو مغربی دروازے کو کھول دیا اور مشرقی دروازے کو بند رکھا۔

دوسری طرف القدس میں اسلامی اوقاف کے محکمے نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح درجنوں انتہا پسند آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے جھرمٹ میں مغربی گیٹ کی جانب سے قبلہ اول مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد کے صحنوں میں اشتعال انگیز دورے کیے اور باب الرحمہ کے علاقے میں تلمودی رسمیں ادا کیں۔

فلسطینی پریس ایجنسی (صفا) کے مطابق پیر کی صبح سے ہی قابض پولیس نے شدت پسندوں کی دراندازی کو محفوظ بنانے کے لیے مسجد اقصیٰ کے صحنوں اور اس کے دروازوں پر اپنی سپیشل فورسز اور یونٹس کو تعینات کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں