اسرائیلی فوج کی موجودگی میں آباد کاروں نے فلسطینی اسکول نذر آتش کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ کے روز سیکڑوں آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کےنابلس شہر کے نواحی علاقے عوریف گاؤں پر اسرائیلی فوج کی موجودگی میں حملہ کیا۔

"سکائی نیوز عربیہ" کے نمائندے کے مطابق ایک طرف فلسطینی باشندوں اور دوسری طرف آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کے درمیان آباد کاروں نے گاؤں کے سیکنڈری اسکول کو آگ لگا دی۔

قبل ازیں بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے عوریف گاؤں میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اسی گاؤں کے دو فلسطینیوں کی طرف سے منگل کو ایک یہودی بستی کے قریب کیے گئے مسلح حملے میں 4 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو سکیورٹی فورسز نے پوچھ گچھ کے لیے خفیہ مقام پر منتقل کیا ہے۔ قابض فوج نے دعویٰ کیا کہ عوریف گاؤں میں تعینات فوجی "دہشت گردوں کے گھروں کی مسماری کی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کر رہے تھے جنہوں نے ایلی بستی پر حملہ کیا تھا۔

فلسطینی خبر رساں ادارے ’وفا‘نے عوریف ویلج کونسل کے سربراہ عبدالحمید شحادہ کے حوالے سے بتایا کہ "قابض افواج نے قصبے پر دھاوا بولا، کئی گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد شہریوں کو گرفتار کر لیا۔"

منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں ایلی بستی کے قریب اسرائیلیوں کو نشانہ بناتے ہوئے4 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اس حملے میں چار افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔

یہ حملہ مغربی کنارے کے جنوب میں بیت لحم کے قریب ایک فلسطینی نوجوان اور 7 دیگر افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد ہوا ہے، جس میں مغربی کنارے کے شمال میں واقع شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی فوجی کارروائی کے دوران 7 افراد مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں