اسرائیل:تین ارب ڈالرمیں امریکا سے مزید 25 ایف 35 اسٹیلتھ جیٹ خریدکرنے کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے تین ارب ڈالر میں امریکی فرم لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کا تیسرا اسکواڈرن خریدکرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیل مشرق اوسط کا واحد ملک ہے جس کے پاس ایف 35 لڑاکا طیارے ہیں۔ یہ دنیا کا جدید ترین لڑاکا طیارہ ہے جو اسٹیلتھ صلاحیت کا حامل ہے اور اسے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے، دشمن کے علاقے میں گہرائی تک حملہ کرنے اور فضائی لڑائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق ان 25 ایف 35 طیاروں کی خریداری کے معاہدے پرجلد دست خط متوقع ہیں اور ان کی آمد سے اسرائیلی فضائیہ کے بیڑے میں شامل ایسے طیاروں کی تعداد بڑھ کر 75 ہو جائے گی۔

اس سودے کی مالی اعانت اسرائیل کومہیا کی جانے والی امریکا کی فوجی امداد سے کی جائے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا معاہدہ امریکی کمپنیوں اوراسرائیل کی دفاعی صنعتوں کے درمیان طیاروں کے پرزوں کی تیاری میں تعاون کے تسلسل کو یقینی بنائے گا۔

واضح رہے کہ مئی 2018 میں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ وہ (شام کی) جنگ میں ایف 35 لڑاکا جیٹ استعمال کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔اس ملک نے برسوں کی جنگ کے دوران میں شام کی سرزمین پر سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر ایران کی حمایت یافتہ افواج اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے علاوہ شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اتوار کے روز اسرائیل نے ایف 35 طیارے خرید کرنے کے منصوبے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل شام میں اینٹی ایئرکرافٹ بیٹری کو نشانہ بنایا ہے۔اس نے شام سے اسرائیلی علاقے میں طیارہ شکن راکٹ داغے جانے کے جواب میں یہ حملہ کیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے 'علاقے میں اضافی اہداف کو بھی نشانہ بنایا' اور شامی میزائل سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں