عراق میں اسرائیلی روسی ماہر تعلیم تسرکوو کی گمشدگی میں ملوث نہیں: کتائب حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے ایران نواز مسلح دھڑے کتائب حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی روسی ماہر تعلیم کی گمشدگی میں ملوث نہیں ہے۔ یاد رہے اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ گروپ نے کہا کہ وہ ملک میں "صیہونی یرغمالی یا یرغمالیوں" سے متعلق جاننے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے بدھ کے روز کتائب حزب اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے الزبتھ تسرکوو کو پکڑ رکھا ہے۔ تسرکوو بغداد میں مارچ 2023 سے لاپتہ ہیں۔ کتائب حزب اللہ عراق کے حشد الشعبی کا ایک طاقتور دھڑا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ سابق نیم فوجی دستوں کو حالیہ برسوں میں عراقی سکیورٹی فورسز میں ضم کیا گیا تھا۔

اسرائیلی الزام پر گروپ نے جمعرات کو پہلا رد عمل دیا۔ گروپ کے ترجمان ابو علی العسکری نے ٹیلی گرام پر ایک مبہم پریس ریلیز جاری کی۔ اس میں کہا گیا کہ صہیونی وزیر اعظم کی جانب سے عراق میں اسرائیلی سکیورٹی ایجنٹ کی یرغمالی کی موجودگی کا اعتراف ایک انتہائی خطرناک اشارہ ہے۔ ابو علی العسکری نے مزید کہا کہ متعلقہ سکیورٹی اداروں کو اس ادارے سے منسلک نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

عراق میں تعینات ایک مغربی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تسرکوو دسمبر 2022 کے آغاز میں بغداد پہنچی تھیں۔ تسرکوو کی ویب سائٹ نے کہا کہ وہ نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجی اینڈ پالیسی سے منسلک تھیں اور ساتھ ہی القدس میں قائم ایک اسرائیلی- فلسطینی تھنک ٹینک فورم فار ریجنل تھنکنگ میں ریسرچ فیلو ہیں۔

تسرکوو سے ملنے والے کئی صحافیوں کے مطابق انہوں نے خطے پر اپنی تحقیق کے ایک حصے کے طور پر ایران نواز دھڑوں اور عراقی شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کی تحریک پر توجہ مرکوز کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں