اسرائیلی کنیسٹ نے عدالتی نظام میں ترمیم کے مسودہ کی ابتدائی منظوری دیدی

یہ جمہوریت کا خاتمہ نہیں:نیتن یاھو، بل کیخلاف حزب اختلاف کا آج موبلائزیشن ڈے منانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی کنیسٹ نے سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات کو محدود کرنے والے بل کی ابتدائی منظوری دے دی۔ یہ بل مجوزہ عدالتی ترامیم کے حصے کے طور پر پر منظور کیا گیا۔ اس بل کو وزیر اعظم نیتن یاہو نے ملک کو ایک بڑے سیاسی بحران میں ڈالنے کے بعد دوبارہ آگے بڑھایا ہے۔

پیر کے روز مسودہ قانون پہلی خواندگی میں منظور کرلیا گیا۔ اس بل کا مقصد عدلیہ کی جانب سے معقولیت کی حد تک حکومتی فیصلوں پر حکمرانی کے امکان کو ختم کرنا ہے۔ دوسری طرف بل کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد پارلیمنٹ کے حق میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرکے اختیارات میں توازن پیدا کرنا ہے۔

عدلیہ کے قوانین میں ترمیم کا منصوبہ نیتن یاہو کے قومی اور مذہبی جماعتوں کے حکمران اتحاد نے پیش کیا جس کے خلاف اسرائیل میں بڑے مظاہروں کی تحریک شروع ہوگئی۔ مغرب میں اسرائیل کے اتحادیوں کو بھی ملک میں جمہوریت کی سالمیت کے بارے میں تشویش لاحق ہوگئی اور عدالتی اصلاحات کے اس منصوبے کے باعث اسرائیل کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

120 کنیسٹ سیٹوں میں سے 64 پر حکمران اتحاد کا کنٹرول ہے۔ نئے بل کو قانون کی شکل دینے کے لیے درکار تین ووٹنگز میں سے پہلی ووٹنگ میں حکومت نےکامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسرائیل میں احتجاج میں شدت آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

نیا بل حکومت، وزراء اور منتخب عہدیداروں کے فیصلوں کو کالعدم کرنے کے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بل پر اب مزید بحث کی جائے گی اور اسے حتمی رائے شماری سے قبل تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اس مسودہ قانون کے ناقدین کا خیال ہے کہ عدالتی نگرانی سے بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ دوسری طرف حامیوں کا کہنا ہے کہ ترامیم سے فیصلوں میں عدالتی مداخلت کو محدود کرکے موثر طرز حکمرانی میں مدد ملے گی۔

جمہوریت کا خاتمہ نہیں

پیر کی شام کنیسٹ نے بل پر بحث شروع کی تو نیتن یاھو نے اسی وقت اپنی ویڈیو جاری کیا۔ اس بیان میں نیتن یاھو نے کہا "یہ جمہوریت کا خاتمہ نہیں ہے، یہ جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے۔ ترمیم کے بعد بھی اسرائیل میں عدالت کی آزادی اور شہری حقوق کو کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ عدالت حکومتی اقدامات اور تقرریوں کی قانونی حیثیت کی نگرانی کرتی رہے گی۔

تاہم ان کے اس بیان کا ترامیم کے مخالفین پر تھوڑا سا بھی اثر نہیں ہوا۔ مباحثے کے آغاز سے قبل متعدد مظاہرین کنیسٹ ہیڈ کوارٹرز میں داخل ہوگئے اور انہیں طاقت کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔ سینکڑوں افراد نے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے مظاہرہ جاری رکھا۔

اسرائیلی اپوزیشن کے مظاہرے کے شرکا سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوگئے اور ان نعرہ بازی کی ۔ اپوزیشن رہنماؤں او مظاہرین کی آوازیں بنک آف اسرائیل میں بھی سنائی دیتی رہیں۔ بنک کے گورنر امیر ہارون نے حکومت پر زور دیا کہ

وہ ادارہ جاتی آزادی کے تحفظ کے لیے قانونی ترامیم پر وسیع اتفاق رائے حاصل کرے۔ اس کے بعد مظاہرین نے اسرائیلی کنیسٹ کی طرف مارچ شروع کردیا۔

اپوزیشن لیڈر یورون نے شیکل کی حد سے زیادہ گراوٹ اور اسرائیلی سٹاک مارکیٹ کی کمزور کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے صحافیوں کو کہا کہ مسلسل غیر یقینی صورتحال کی ایک اہم اقتصادی قیمت ہے۔

موبلائیزیشن ڈے

یاد رہے نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر مقدمہ چل رہا ہے۔ نیتن یاھو بدعنوانی کی وہ تردید کر رہے ہیں۔ نیتن یاو نے اتوار کو کہا تھا کہ مظاہروں سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

حزب اختلاف نے آج منگل کو اس بل کے خلاف قومی موبلائزیشن ڈے کا اعلان کیا ہے۔ اس مسودہ قانون کی اب دوسری اور تیسری خواندگی ہوگی۔ عدالتی ترامیم کے حوالے سے تقسیم نے اسرائیلی معاشرے میں ایک دراڑ پیدا کر دی۔

نیتن یاہو نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی سرپرستی میں حزب اختلاف کے ساتھ بل پر اتفاق حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کرنے کے لیے ترامیم کی منظوری کے منصوبے کو معطل کر دیا تھا لیکن یہ مذاکرات گزشتہ ماہ تعطل کا شکار ہو گئے اور اتحاد نے بل کی منظوری کے لیے اپنی کوششیں دوبارہ شروع کر دیں۔

ہرزوگ نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ بنیادی مسائل جو ہمیں الگ کر دیتے ہیں کو حل کرنے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں