نیتن یاہو نے احتجاج میں ہولوکاسٹ کا ٹھٹھا اڑانے پردیرینہ پارٹی کارکن کو چلتا کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اپنی جماعت لیکوڈ کے ایک دیرینہ کارکن کو بے دخل کرنے کا حکم دیا ہے۔اس نے حکومت مخالف مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ہولوکاسٹ کا مذاق اڑایا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اتزک زرقا ہفتے کے روز مزدور طبقے کے قصبے بیت شیان کے قریب ایک ٹریفک جنکشن پر مظاہرین کو کوس رہے ہیں اور تھوک رہے ہیں۔

وہ چیختے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ایسا کچھ نہیں ہوا تھا کہ ساٹھ لاکھ لوگ مارے گئے۔مجھے فخر ہے کہ آپ میں سے ساٹھ لاکھ جلا دیے گئے‘‘۔

زرقا نیتن یاہو کی جماعت کی انتخابی مہم کی تقریبات میں برسوں سے ایک قد آور شخصیت کے طور پر معروف ہیں۔ان کی برطرفی پر نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا:’’ہم لیکوڈ تحریک میں اس طرح کے شرم ناک رویے کو برداشت نہیں کریں گے‘‘۔

نازی جرمنوں نے زیادہ تر یورپی یہودیوں کی نسل کشی کی تھی۔زرقا نے انھیں مخالفین کے طور پر پیش کرکے ان کے اور مشرق اوسط سے تعلق رکھنے والے مزراحی یہودیوں کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ مزراحیون (مزراحیم) رایتی طور پر قدامت پسند لیکوڈ پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔

نیتن یاہو کے مذہبی قوم پرست اتحاد کے کچھ ارکان نے وزیر اعظم کی جانب سے عدلیہ میں اصلاحات لانے کی کوشش کو اشکنازی یا یورپی نسل سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی اشرافیہ کے حد سے تجاوز کو دور کرنے کے طور پر پیش کیا ہے جو ملک کی بانی نسل پر حاوی تھے۔

مزراحیم اسرائیل کی یہودی اکثریت کا قریباً نصف ہیں۔ان کی اشکنازیوں (اشکنازیم) کے ساتھ وسیع پیمانے پر شادی بیاہ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ وہ بعض اوقات اسرائیل میں خود سے امتیازی سلوک اور سماجی و معاشی نقصان کی شکایت کرتے ہیں۔

ہولوکاسٹ سے انکار، اس کے پیمانے پر سوال اٹھانا یا اس کا جشن منانا ایک فوجداری جرم سمجھا جاتا ہے اور اسرائیلی قانون کے تحت اس کی سزا پانچ سال قید ہے۔نازیوں کے ہاتھوں تاریخی تباہی ایک ایسا مسئلہ ہے جو عام طور پر یہودیوں کو متحد کرتا ہے ، اور زرقا کے ریمارکس کی سیاسی منظر نامے میں مذمت کی گئی تھی۔

زرقا نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بیان میں کہا کہ ان کے تبصرے کو ’’سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا ہے‘‘ انھوں نے خود کو ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص کا پوتا بتایا ہے۔

مجوزہ عدالتی اصلاحات کے ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو طویل عرصے سے اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے میں بے گناہ ثابت ہونے کے لیے عدالت کی آزادی پر قدغن لگانا چاہتے ہیں۔ کہنہ مشق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے حکومت کی شاخوں میں توازن پیدا ہوگا۔

بعض حکومت مخالف مظاہرین نے 1930 کی دہائی میں جرمنی میں ظلم و جبر کا عدلیہ کی آزادی کے لیے مارچ کے دوران میں ہونے والے ظلم وجبر سے موازنہ کیا ہے، جس کی وجہ سے لیکوڈ کے قانون ساز اور اسرائیل کے وزیر اطلاعات گالیت ڈسٹل اتبریان نے ان پر ہولوکاسٹ کو معمولی بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔

فارسی یہودی نسل سے تعلق رکھنے والے ڈسٹل اتبریان نے مارچ میں پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کے سیاست دانوں کو بتایا تھا کہ ’’یہ آپ کے خاندان تھے جنھیں وہاں جلا دیا گیا تھا۔یہ کیسے ممکن ہوا تھا؟‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں