اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتصوغ نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے دعا گو ہے۔
انھوں نے بدھ کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں قانون سازوں کو بتایا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ پرامن تعلقات کے قیام کے لیے کام کرنے پر امریکا کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم اس لمحے کے آنے کی دعا کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا خطے اور مسلم دنیا میں قائدانہ کردار ہے۔
امریکا سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے خلیجی رجحان میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے لیکن اس کے باوجود مملکت نے اسرائیل سے متنازع امور حل ہونے تک معمول کے تعلقات استوار کرنے سے انکار کردیا ہے۔اس نے تنازع فلسطین اور دیگر مسائل کے حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔اس کا یہ مؤقف ہے کہ مشرق اوسط کے اس دیرینہ تنازع کو عرب امن اقدام کے مطابق حل کیا جائے۔
گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ لیکن انھوں نے یہ اعلان کرنے سے گریز کیا کہ آیا ایسا کوئی معاہدہ جلد طے ہونے کے قریب ہے۔
ایک انٹرویو میں جب بائیڈن سے امریکا سے سعودی عرب کے سویلین جوہری طاقت کی ترقی میں مدد دینے کے مبیّنہ مطالبے اور اس کی سلامتی کا ضامن بننے سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ابھی تھوڑا دور ہیں‘‘۔