غرب اردن میں صہیونی فوج پر فائرنگ کرنے والے تین افراد فنا کے گھاٹ اتار دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں ان تین افراد کو "بے سد" کردیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ایک گاڑی سے اسرائیلی فورسز پر فائرنگ کی تھی۔

اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان میں تینوں افراد کی حالت کے بارے میں نہیں بتایا گیا لیکن اسرائیل کے آرمی ریڈیو نے کہا کہ وہ مارے گئے ہیں۔

فوجی بیان کے مطابق اسرائیلی سپاہیوں نے مارے جانے والے فلسطینیوں کی کار سے تین M-16 رائفلیں، ایک بندوق، کارتوس اور دیگر فوجی سامان برآمد کیا۔

فلسطین ٹی وی نے ایک فوٹیج دکھائی جس میں فوجی گاڑی نے وقوعے کے علاقے تک ایک ایمبولینس سمیت ہر طرح کی رسائی کو روکا ہوا تھا جبکہ فوجی معائنے میں مصروف نظر آ رہے تھے۔

ٹوئٹر پر فوج کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر دفاع یوآو گیلانٹ نے کہا کہ یہ واقعہ ماؤنٹ گیریزم پر پیش آیا جو بلندی سے نابلس کا منظر پیش کرنے والی ایک سامری کمیونٹی ہے۔

مغربی کنارے میں شروع ہونے والے تشدد میں یہ اموات تازہ ترین ہیں۔ مغربی کنارے پر اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے بعد سے قبضہ کر رکھا ہے۔

گذشتہ سال کے اوائل سے، اس علاقے میں فلسطینیوں کے اسرائیلی اہداف پر حملوں کے ساتھ ساتھ، فلسطینی برادری کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کاے تشدد بھی دیکھا گیا ہے۔

ایک سال سے زیادہ عرصے سے مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جس میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے چھاپے، سڑکوں پر فلسطینیوں کے حملے، اور فلسطینی دیہاتوں میں آباد کاروں کے ہنگامے شامل ہیں۔ نابلس اور قریب واقع مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں خاص طور پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں