لبنانی وزیر دفاع کی گاڑی پر فائرنگ، میں خیریت سے ہوں وزیر دفاع موریس سلیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے وزیر دفاع موریس سلیم نے جمعرات کو کہا ہے کہ بیروت کے مشرق میں جسر الباشا کے علاقے میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی تاہم وہ اس واقعے میں محفوظ ہیں اور خیریت سے ہیں۔

نگراں حکومت میں وزیر دفاع کے بیانات ایک مقامی چینل پر اس خبر کے گردش کرنے کے بعد آئے جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے گولیاں ماری گئی ہیں۔

مقامی "ایم ٹی وی" چینل کو ایک فون کال میں میں موریس سلیم نے کہا کہ "میں ٹھیک ہوں، لیکن میری گاڑی کی پچھلی کھڑکی گولیوں کی زد میں آ گئی تھی۔"

میڈیا نے ان کی گاڑی کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

لبنان کے وزیر داخلہ بسام مولوی نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو گاڑی پر گولیاں لگنے کے بعد وزیر دفاع ٹھیک ہیں۔

قاتلانہ حملے کی تفصیلات

خیال رہے کہ کل جمعرات کو لبنانی وزیر دفاع موریس سیلم اس وقت قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے جب مشرقی بیروت میں ان کی کار پر نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں چلائی تھیں۔

قاتلانہ حملہ جسر الباشا کے علاقے میں کیا گیا۔ لبنان کے ایک فوجی ذریعے نے العربیہ اور الحدث چینلوں کو بتایا کہ وزیر دفاع کی گاڑی پر گولی ماری گئی ہے۔

وزیر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، کیونکہ لبنانی میڈیا نے ان کے حوالے سے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں، لیکن ان کی گاڑی پر گولی ماری گئی اور اس کی پچھلی کھڑکی کو نشانہ بنایا گیا۔

العربیہ اور الحدث چینلز کے نامہ نگار نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیموں نے لبنانی وزیر دفاع کے قافلے پر حملے کے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ایک سینیر سکیورٹی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دو گولیاں نگراں وزیر کی گاڑی کو لگیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

لبنانی فوج کے سینیر اہلکار نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا وزیر کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں