فلسطینی اتھارٹی نے مشرقی یروشلم کو ترقی دینے کےنام نہاد اسرائیلی منصوبوں کی شدید الفظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس کی تعمیرو ترقی کی آڑ میں آباد کاری کے لیے ایک ارب ڈالر کا اسٹریٹیجک پلان تیار کیا ہے۔
اس منصوبے پر ایک بیان میں فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ اس کا مقصد یروشلم میں یہودیوں کو بسانے کی سرگرمیوں کو تیز کرنا اور تمام شعبوں میں اس کی القدس کی خصوصیات کو تبدیل کرنا ہے۔ فلسطینیوں کی قدرتی آبادی میں اضافے کو محدود کرنا، فلسطینی اسکولوں پر اسرائیلی نصاب کو نافذ کرنا اور یہودی آباد کاری کو پھیلانا شامل ہے۔ ہم القدس کو یہودیانے کے تازہ اسرائیلی منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ القدس کے حوالے سے اسرائیل کے منصوبوں کا مقصد شہر کو اسرائیل میں ضم کرنا اور اس کے سیاسی مستقبل کو یکطرفہ طور پر حل کرتے ہوئے اسے اسرائیلی ریاست کا حصہ بنانا ہے تاکہ مستقبل میں القدس کو کسی بھی قسم کے مذاکرات سے الگ کیا جائے۔ اس منصوبے کے واضح توسیع پسندانہ اور نسل پرستانہ استعماری مقاصد ہیں،اس سے فلسطینیوں کی زمینوں کو ضبط کرنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائےگا۔
-
مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں: برطانیہ
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی یہودی بستیوں پربرطانیہ نے سخت رد عمل کا اظہار ...
بين الاقوامى -
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں غیرقانونی ہی رہیں گی: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے اپنے اس دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ مقبوضہ ...
مشرق وسطی -
یہودی بستیاں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لئے خطرہ ہیں: یورپی یونین
یورپی یونین وزارت خارجہ کی ترجمان فیڈریکا موگرینی نے اسرائیل کی طرف سے یہودی ...
بين الاقوامى