’باربی‘ کی لبنان میں ریلیز پر پابندی کے بعد نمائش کی اجازت دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان نے بالآخر "باربی" فلم کو سینما گھروں میں باقاعدہ نمائش کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے قبل لبنان کے وزیر ثقافت کی جانب سے فلم کو قدامت پسند اقدار سے متصادم ہونے کی بنا پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، فلم پر پابندی کی حکومتی کوششوں کو ہدف تنقید بنایا جاتا رہا ہے۔

فلم، ڈرامے یا کتاب کی لبنان میں اشاعت سے متعلق اجازت دینے کی مجاز جنرل سکیورٹی ایجنسی نے گذشتہ روز ملک میں فلم کی نمائش کی اجازت دے دی۔ رائیٹرز نے اپنے ذرائع کے توسط سے فیصلے کی کاپی حاصل کرنے کے بعد یہ خبر جاری کی ہے۔

اجازت نامہ میں فلم کی نمائش کرنے والے سنیما گھروں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ ان میں باربی دیکھنے والے فلم بینوں کی عمر کم سے کم 13 سال سے کم نہیں ہونی چاہئے۔

گذشتہ ماہ، ثقافت کے وزیر محمد مرتضیٰ نے وزارت داخلہ سے فلم پر یہ کہتے ہوئے پابندی لگانے کا کہا کہ"یہ فلم ہم جنس پرستی اور تبدیل جنس کو فروغ دیتی ہے۔" نیز یہ فلم خاندانی کلچر کی اہمیت کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے جبکہ باربی "عقیدے اور اخلاقی اقدار سے متصادم بھی ہے"۔

وزیر داخلہ بسام مولوی نے بدلے میں جنرل سکیورٹی کی سنسرشپ کمیٹی سے فلم کا جائزہ لینے اور اپنی سفارشات دینے کا کہا۔

دوسری جانب کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کونا نے بتایا کہ "عوامی اخلاقیات اور سماجی روایات" کے تحفظ کے لیے "باربی" اور مافوق الفطرت ڈروائنی فلم "ٹاک ٹو می" پر پابندی لگا دی ہے۔

ریان گوسلنگ اور مارگٹ روبی فلم میں علی الترتیب باربی اور کین کے طور پر اداکاری کر رہے ہیں، یہ فلم Mattel Inc کی تخلیق باربی ڈول کو حقیقی دنیا میں مہم جوئی کے لیے بھیجتی ہے۔

فلم کے 21 جولائی کو ہونے والے پہلے ڈیبیو کے بعد سے دنیا بھر میں باکس آفس پر اس کی ٹکٹوں کی فروخت میں $1 بلین کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں