اردن کی فوج نے منگل کے روزشام سے منشیات لے کر آنے والے دو ڈرون مار گرائے ہیں۔
اردنی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈرون اس کی حدود میں داخل ہوئے تھے اور ان پر کرسٹل میتھ ایمفیٹامین کی کھیپ لدی ہوئی تھی۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گی۔
اردنی حکام کا کہنا ہے کہ منشیات، ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد لے جانے والے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سرحد پار اربوں ڈالر کی منشیات کی جنگ میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔اردن نے نے جنوبی شام میں موجود ملیشیاؤں پر ڈرونز کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کا الزام عاید کیا ہے۔
عرب حکومتوں اور مغرب کی جانب سے شام پر یہ الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ انتہائی نشہ آور اور منافع بخش ایمفیٹامین اور دیگر منشیات تیار کرتا ہے اور اس کی اسمگلنگ کو منظم کرتا ہے، جس میں اردن ایک اہم راہداری روٹ ہے۔
لیکن دوسری جانب صدر بشارالاسد کی حکومت منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ میں شام کے ملوّث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔ وہ شامی فوج اور سکیورٹی فورسز کے یونٹوں کے زیرتحفظ ملیشیاؤں کی بھی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوّث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔
اردن کے حکام کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی روک تھام کے لیے شام کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت عملاً ختم ہوچکی ہے کیونکہ دمشق اپنے جنوبی علاقے میں امن و امان کے نفاذ میں ناکام رہا ہے اور وہاں لاقانونیت کی صورت حال پائی جاتی ہے۔