اسرائیل کو دفاع کا حق دینا فلسطینیوں کے قتل عام کا لائسنس دینے کے مترادف ہے

ریاض منصور کا عالمی برادری سے دوہرا معیار ترک کرنے جب کہ اسرائیل سے اپنا قبلہ درست کرنے کا مطالبہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی دھڑوں کی طرف سے اسرائیل کے علاقوں پر شروع کیے گئے "طوفان الاقصیٰ " آپریشن کو دو دن گزرنے کے بعد اتوار کے روز اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے مغربی ردعمل کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے پرعالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ دنیا کو دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا۔ اسرائیل کو دفاع کاحق دینے کی بات فلسطینیوں کے قتل عام کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔

غزہ کا محاصرہ فوری ختم کرنے کا مطالبہ

ریاض منصور نے زور دے کر کہا کہ ان کے ملک نے اسرائیل کے اقدامات سے بارہا خبردار کیا ہے مگر عالمی برادری نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اسرائیل اپنا راستہ تبدیل کرے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے غزہ کے محاصرے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو غزہ کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرنا ہوگا اور قتل عام کو روکنے کے لیے ہمارے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق دینا فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لائسنس کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اسرائیل سے فلسطینی عوام کے لیے بین الاقوامی تحفظ کہاں ہے؟"

ریاض منصور نے کہا کہ جب مظلوم فلسطینی ہیں جب کہ بین الاقوامی برادری خاموش ہے۔ ہم انسان نہیں ہیں کہ ہمیں قتل کرنے کی اجازت دی جائے اور اسرائیلیوں کے قتل پر اعتراض کیا جائے"۔

خیال رہے کہ 6 اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے اس "ریاستی سطح پر حالت جنگ" کا اعلان کیا ہے۔

حماس اور دوسرے عسکریت پسندوں کے حملوں میں اب تک 700 سے زائد اسرائیلی ہلاک جب کہ قیدیوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں تقریباً 370 ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں