فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طرف سے ڈھائی جانے والی قیامت اور بربریت کے مناظر دیکھنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔
ایک فلسطینی ایمبولینس ڈرائیور لاشوں کا انبار دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
یہ واقعہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی رعونت اور جنگی جنون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
غزہ میں وزارت صحت نے کہا کہ ہفتے کے روز سے محصور پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 900 فلسطینی شہید اور تقریباً 4,600 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
لم يتحمل المشهد.. سائق سيارة إسعاف فلسطيني يبكي بحرقة بسبب تزايد أعداد القتلى الفلسطينيين الذين يقوم بنقلهم#فلسطين #إسرائيل #العربية pic.twitter.com/uEOTAzIBKh
— العربية (@AlArabiya) October 11, 2023
"کوئی جگہ محفوظ نہیں"
غزہ کے رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کئی عمارتیں منہدم ہوئیں۔ بعض میں پچاس پچاس افراد اندر پھنسے ہیں۔ امدادی کارکن ان تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کے ایک لاکھ 80 ہزار بے گھر لوگوں کو عارضی پناہ گاہوں اور اسکولوں میں پناہ دی گئی ہے۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہفتے کے روز سےاسرائیلی حملوں میں 22,600 سے زائد رہائشی یونٹس اور دس ہسپتال تباہ ہو چکے ہیں۔ اسرئیلی بمباری میں 48 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔