غزہ کی پٹی پر تشدد اسرائیلی فضائی اور بحری حملوں کی بیراج کے ساتھ غزہ میں جاری لڑائی چھٹے روز میں جاری ہے۔
یہ لڑائی گذشتہ ہفتے کے روز اس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے حیران کن طور پر غزہ کی سرحدی باڑ توڑتے ہوئے اسرائیلی کالونیوں پر حملہ کر دیا تھا۔
تغطية خاصة من #العربية | #نتنياهو ووزير دفاعه يتعهدان بالقضاء على حركة #حماس.. والصحة في #قطاع_غزة تحذر من أن الخدمات الصحية دخلت مرحلة حرجة https://t.co/WTFK2DNKfX
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) October 12, 2023
فلسطین کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق آج جمعرات کو اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے مغرب میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی۔
ادھر اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں حماس کے متعدد مراکز پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی بحریہ نے بتایا کہ الحکہ میں حماس کے بحری یونٹوں کے ذمہ دار محمد ابو شمالہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
فوج کے پریس آفس نے ٹیلی گرام کے ذریعے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے حماس کے ایلیٹ یونٹ اور کمانڈ سینٹرز پر حملہ کیا جہاں 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی کی سرحد کے قریب اسرائیلی علاقے میں حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
العربیہ اورالحدث ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کے مغرب میں انصار حکومتی کمپلیکس کے آس پاس کے علاقوں پر بمباری کی۔
یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب فلسطینی ہلال احمر نے خبردار کیا ہے کہ "اگر غزہ کی پٹی میں ایندھن کے داخلے پر پابندی برقرار رہی تو ایمبولینس خدمات 4 دن کے اندر بند کر دی جائیں گی۔ یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے۔
دوسری طرف فلسطینی وزیر صحت میی الکیلہ نے خبردار کیا کہ "غزہ کی پٹی وبائی امراض کے پھیلاؤ اور ماحولیاتی تباہی کا سامنا کرسکتی ہے"۔