غزہ سے فلسطینی ڈاکٹر کا پیغام ’لندن میں پولیس میرے خاندان کو ہراساں کررہی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی ڈاکٹر نے شکایت کی ہے کہ لندن میں مقیم اس کے خاندان کو پولیس کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

برطانوی پولیس کا فلسطینی ڈاکٹر کے خاندان پر حملہ

فلسطینی نژاد برطانوی ڈاکٹر غسان ابو ستہ نے زخمیوں کے علاج اور ریسکیو میں مدد کے لیے برطانیہ چھوڑ کر غزہ کی پٹی کا رخ کیا۔

معروف ڈاکٹر نےکہا کہ برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس نے ان کے خاندان پر حملہ کیا۔

ایکس ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا "برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس برطانیہ میں میرے گھر آئی اور میرے خاندان کو ہراساں کیا"۔

’سی این این‘ کے مطابق فلسطینی سرجن ابو ستہ نے غزہ کی پٹی میں زخمیوں کی نوعیت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں زیادہ تر بچے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں صحت کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ انہوں نے ابتدائی طبی امداد کے سامان کی کمی پر بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ زخمیوں بری طرح جھلس چکے ہیں اور ان کے لیے مناسب طبی امداد میں مشکلات کا سامنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فلسطینی ڈاکٹر لندن سے سفر کر کے غزہ پہنچے، جس کا مقصد وہاں کے ہسپتالوں میں طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

غسان ابو ستہ ایک فلسطینی باپ اور لبنانی والدہ سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری ہیں۔ انہوں نے اپنی گریجویشن کی تعلیم برطانیہ میں مکمل کی، جہاں اس نے اپنی زندگی کے 25 سال گزارے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں