راکٹ حملوں کا خوف ،جرمن چانسلر بھی اسرائیلی ہوائی اڈے پر اوندھے منہ زمین پر لیٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی طرف سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والے جرمن چانسلر، ان کے ساتھ آیا وفد اور صحافی خوف کے مارے زمین پر لیٹ گئے۔

اس عجیب وغریب واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جرمن چانسلر اولاف شولز، ان کا عملہ اور ان کے وفد کے ساتھ موجود صحافیوں کو طیارے سے اترنے کے بعد زمین پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔ پھر وہ رینگتے ہوئے آگے بڑھنے اور راکٹوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔

الارم سائرن بجنے کے بعد تل ابیب ایئرپورٹ کے فرش پر لیٹے ہوئے جرمن چانسلر کی اسرائیل کے دورے کے دوران ایک ویڈیو کلپ تیزی سے وائل ہو رہا ہے۔

اس ویڈیو کو بار بار سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو کلپ کو کئی پیجز پر شیئر کیا گیا اور اس میں سینیر اہلکار اور ان کے ساتھیوں کو فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے خوف کی وجہ سے زمین پر پڑے ہوئے دکھایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ شولز نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کا دورہ اسرائیل کے لیے جرمنی کی حمایت کا حصہ ہے۔

انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا کہ "میرا اسرائیل کا دورہ دوست ملک کے لیے ہے۔ جرمنی مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔"

اس سے قبل جرمن چانسلر اولاف شولز نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس کے دوران انہوں نے غزہ کے تنازعے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں