غزہ جنگ نے امریکہ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف خطرات کی سطح بڑھا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ترجمان نے بدھ کو کہا ہےکہ محکمہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کی وجہ سے امریکا میں "خطرے کے بڑھتے ہوئے ماحول" پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکا کے اندر کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں خاص طور پر یونیورسٹی کیمپس میں مظاہرے ہوئے۔

امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ترجمان نے کہا کہ وزارت نے یہودی، مسلم اور عرب کمیونٹیز اور اداروں کے خلاف دھمکیوں کی بڑھتی ہوئی رپورٹس دیکھی ہیں۔

نفرت سے متاثر ایک 70 سالہ امریکی نے 6 سالہ فلسطینی بچے کو چاقو کے 26 وار کر کے قتل کر دیا تھا

یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ تنہا بھیڑیے "سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں"

ہوم لینڈ سکیورٹی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کے مطابق ایف بی آئی نے پہلے عوامی طور پر مسلمان اور یہودی امریکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ادارے نے مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذہبی سہولیات کے تحفظ کو بڑھانے کے لیے کہا تھا۔

رے نے اتوار کے روز صحافیوں کو بتایا کہ دفتر نے اس بات کے شواہد نہیں دیکھے کہ حماس اپنے حامیوں کے ذریعے امریکا میں براہ راست حملوں کی کوشش کر رہی ہے، لیکن کہا کہ یہ ایک امکان ہے۔

جمعرات کو محکمہ خارجہ نے "امریکی شہریوں اور مفادات کے خلاف دہشت گردانہ حملوں، مظاہروں، یا تشدد کی کارروائیوں کے امکان" کی وجہ سے دنیا بھر کے تمام امریکیوں کو ایک انتباہ جاری کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں شائع کردہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات جس میں اسرائیل شامل ہے، تاریخی طور پر امریکا میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

جنگ سے پہلے نفرت پر مبنی جرائم پہلے ہی بڑھ رہے تھے۔ 2022 میں ان میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

گذشتہ ہفتے الینوائے کے ایک شخص پر ایک 6 سالہ مسلمان بچے کو چاقو گھونپ کر قتل اور اس کی ماں کو شدید زخمی کردیا تھا۔ اس واقعے کے پیچھے بھی مذہبی نفرت اور غزہ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ کے محرکات بتائے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں