لبنان میں جھڑپوں کے بعد اسرائیلی فوج کا شمالی شہر کو خالی کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے جمعہ کو شمالی شہر کریات شمونہ کو خالی کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ لبنان کے ساتھ سرحد پر حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ کئی دنوں کی جھڑپوں کے بعد ہوا ہے۔

فوج نے ایک بیان میں کہا۔ "تھوڑی دیر پہلے شمالی کمان نے شہر کے میئر کو فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس منصوبے کا انتظام مقامی اتھارٹی، وزارتِ سیاحت اور وزارتِ دفاع کریں گے۔"

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے مسلح افراد کے کمیونٹیز پر حملہ کے بعد لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اتحادی فلسطینی گروہوں نے اسرائیل کے ساتھ کئی دنوں سے سرحد پار فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق مذکورہ حملے میں کم از کم 1,400 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں 3,700 سے زیادہ فلسطینی جوابی اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بنیادی طور پر عام شہری ہیں۔

اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کی افواج حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں کیونکہ سرحد پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

فوج نے جمعے کے اوائل میں کہا، "آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) نے حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف متعدد حملے کیے جن میں مشاہداتی چوکیاں بھی شامل ہیں۔"

"اس کے علاوہ آئی ڈی ایف کے لڑاکا طیاروں نے تین دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے اسرائیل کی طرف ٹینک شکن میزائل داغنے کی کوشش کی۔"

اسرائیلی حکام شمالی سرحد کے پار کمیونٹیز کو مستقل طور پر خالی کر رہے ہیں کیونکہ گوریلا فوجی اور ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بڑی تعداد میں علاقے میں داخل ہو رہی ہیں۔

شیعہ مسلم حزب اللہ تحریک لبنان کا واحد مسلح گروہ تھا جو 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد غیر مسلح نہیں ہوا۔ اس گروہ نے آخری بار 2006 میں اسرائیل کے ساتھ ایک بڑا تنازع لڑا تھا۔

اس جنگ کے نتیجے میں لبنان میں 1,200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور اسرائیل میں 160 جو زیادہ تر فوجی تھے۔ یہ ایک ایسا تنازعہ تھا جس نے گہرے نقوش چھوڑے اور سرحد پر بڑی تعداد میں اسلحہ استعمال ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں